شہید محمد یاسین یتو

زندہ ہے زندہ ہے۔۔۔ یاسین شہید زندہ ہے

بشیر کرمانی

کشمیر کی معاصر تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے جن کی زندگیاں سیاسی کشمکش، مسلح تصادم، طویل اسیری اور غیر یقینی حالات کے درمیان گزریں۔ ان شخصیات کے بارے میں رائے ہمیشہ مختلف رہی ہے۔ بعض حلقے انہیں مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں جبکہ دوسرے انہیں مسلح تنازع کا حصہ سمجھتے ہیں۔ محمد یاسین یتو، جو بعد میں “محمود غزنوی” کے نام سے معروف ہوئے، بھی انہی تاریخی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی مسلسل جدوجہد، کئی مرتبہ گرفتاریوں، طویل قید اور بالآخر 2017ء میں ایک مسلح تصادم میں شہادت پر منتج ہوئی۔محمد یاسین یتو ضلع بڈگام کے علاقے ناگام، چاڈورہ میں ایک مذہبی اور روایتی کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حبیب اللہ یتو اپنے علاقے میں نیک نام اور دین دار شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ محمد یاسین نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے اسکول سے حاصل کی، بعد ازاں ہائی اسکول اور ہائر سیکنڈری کی تعلیم مکمل کی۔ وہ تعلیم میں ذہین طالب علم سمجھے جاتے تھے او انہوں نے سرینگر کے ایس پی کالج سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔تعلیم کے دوران ہی کشمیر کے بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی حالات نے ان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔ 1990ء کی دہائی کشمیر میں مسلح جدوجہد، بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں، گرفتاریاں، ہڑتالوں اور سیاسی بے چینی کا زمانہ تھا۔ اسی ماحول میں انہوں نے 1996ء کے قریب حزب المجاہدین سے وابستگی اختیار کی اور عسکری تربیت حاصل کی۔ تربیتی مرحلے کے دوران ان کی دینی دلچسپی اور قرآن سے شغف کے باعث انہیں ایک کیمپ میں قرآن کی تعلیم دینے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔تربیت مکمل ہونے کے بعد وہ واپس کشمیر آئے اور مختلف علاقوں میں سرگرم رہے۔ چند ماہ بعد ضلع بانڈی پورہ میں گرفتار کر لیے گئے اور تقریباً ایک سال تک حراست میں رہے۔ رہائی کے بعد انہوں نے معمول کی زندگی اختیار کرنے کی کوشش کی اور چاڈورہ میں ایک کوچنگ سینٹر قائم کیا، جہاں نوجوانوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ تاہم یہ مرحلہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور وہ دوبارہ زیرِ زمین چلے گئے۔2002ء میں وہ دوبارہ گرفتار ہوئے۔ قید اور تفتیش کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد رہائی ملی، لیکن کچھ عرصے بعد ایک مرتبہ پھر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ اس بار ان کی قید کا دورانیہ تقریباً دس برس پر محیط رہا۔ اس عرصے میں انہیں مختلف جیلوں، جن میں کوٹ بلوال اور سینٹرل جیل سرینگر بھی شامل تھیں، منتقل کیا جاتا رہا۔

طویل اسیری کے دوران انہوں نے دیگر قیدیوں کو قرآن اور دینی تعلیم دینے میں وقت صرف کیا۔ وہ نسبتاً خاموش مزاج تھے اور مشکل حالات میں بھی حوصلہ قائم رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔2015ء میں رہائی کے بعد وہ ایک ایسے کشمیر میں واپس آئے جو 1990ء کی دہائی کے مقابلے میں خاصا مختلف ہو چکا تھا۔ نوجوان نسل میں نئی سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں اور سوشل میڈیا بھی ایک مؤثر ذریعہ بن چکا تھا۔ اسی عرصے میں برہان مظفر وانی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، جس نے نوجوانوں کے ایک طبقے پر نمایاں اثر ڈالا۔

محمد یاسین نے رہائی کے بعد دوبارہ حزب المجاہدین سے وابستگی اختیار کی۔ انہیں وسطی کشمیر کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جہاں وہ تنظیمی رابطوں اور انتظامی امور میں مصروف رہے۔ وہ نئے شامل ہونے والے افراد کی تنظیمی اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔اسی دوران ان کے اہل خانہ کو بھی مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد مرتبہ بھارتی فورسز کی کارروائیوں، تلاشیوں اور پوچھ گچھ کے خوفناک طریقے استعمال کرکے ان کے خاندان کی زندگی کو اجیرن بنادیا گیا۔8 جولائی 2016ء کو برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کی صورت حال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اس واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج، ہڑتالیں اور جھڑپیں ہوئیں۔ اسی عرصے میں محمد یاسین یتو کو تنظیم کے اہم عسکری رہنماؤں میں شمار کیا جانے لگا اور وہ “محمود غزنوی” کے نام سے زیادہ معروف ہوئے۔تنظیمی سطح پر ان کے ذمے مختلف ذمہ داریاں آئیں اور انہیں حزب المجاہدین کے آپریشنل ڈھانچے میں نمایاں مقام حاصل ہوا۔ بھارتی سکیورٹی اداروں نے بھی انہیں مطلوب افراد کی فہرست میں شامل رکھا ۔12 اگست 2017ء کو ضلع شوپیاں کے علاقے آونیورہ میں ایک کارروائی کے دوران بھارتی فورسز نے ایک مکان کا محاصرہ کیا جہاں ان کے موجود ہونے کی اطلاع تھی۔کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ دونوں جانب سے فائرنگ ہوئی اور بالآخر مکان کو شدید نقصان پہنچا۔13 اگست کو کارروائی کے اختتام پر محمد یاسین یتو سمیت کئی افراد شہادت سے سرفراز ہوئے۔ اس تصادم کے دوران آس پاس کے علاقوں میں سخت احتجاج بھی ہوا۔احتجاج کو سختی سے دبانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں کئی افراد شدید زخمی ہوئے۔ان کی میت جب آبائی علاقے ناگام پہنچائی گئی تو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ان کے والد نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

سید علی گیلانی ؒ اور سید صلاح الدین احمد نے ان کی شہادت کو تحریک آزادی کیلئے ایک عظیم نقصان قرار دیا اور شہید کو زبردست خراج عقیدت ادا کیا۔محمد یاسین یتو کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ان کی طویل اسیری بھی ہے۔ تقریباً ایک دہائی سے زائد عرصہ جیلوں میں گزارنے کے باوجود وہ کشمیر کی سیاست اور مسلح تنازع کے مباحث میں زیرِ بحث رہے۔وہ ثابت قدم اور بااصول مجاہد تھے اور انہوں نے قائدانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ۔

ان کی شہادت پر پوری ریاست میں احتجاج، ہڑتالیں کئی روز تک جاری رہیں۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سیاسی اور انسانی مسئلہ بھی ہے، جس کے مختلف پہلو دہائیوں سے زیرِ بحث ہیں۔محمد یاسین یتو کی زندگی اس نسل کی نمائندگی کرتی ہے جس نے مسلسل بے یقینی، تشدد، گرفتاریوں، خوف اور سیاسی کشمکش کے ماحول میں زندگی گزاری۔تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ طویل تنازعات میں شامل شخصیات کو مختلف معاشرے مختلف انداز میں یاد رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی، قید، رہائی، دوبارہ سرگرمیوں میں شمولیت اور بالآخر 2017ء میں شہادت، کشمیر کے اس طویل اور پیچیدہ باب کا حصہ ہیں جس کے اثرات آج بھی محسوس کئے جاتے ہیں۔اس داستان کا سب سے اہم سبق شاید یہی ہے کہ کشمیر جیسے دیرینہ تنازع نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا، بے شمار زندگیاں بدل دیں اور کئی نسلوں کو عدم استحکام کے ماحول میں پروان چڑھنے پر مجبور کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قربانیاں ضائع نہیں ہوتیں ۔محمد یاسین یتو کی قربانی بھی ضائع نہیں ہوگی ۔شہیدوں کا خون ضرور رنگ لائے گا ۔مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی رائے کے عین مطابق حل کرنا ضروری ہے ۔تاخیر کرنا اس پورے خطے کیلئے انتہائی خوفناک ہوگا۔