صائم فاروقی
1999ء کا ایک یادگار منظر آج بھی بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ ایک وجیہہ اور پُرعزم نوجوان مجاہدین کے اجتماع میں سٹیج پر کھڑا تھا۔ اس نے پہلے رسول اکرم ؐ کاایک ارشادِ مبارک عربی متن میں سنایا، پھر نہایت مؤثر اور مدلل انداز میں اس کا مفہوم کشمیری زبان میں حاضرین کے سامنے بیان کیا۔ اس کی گفتگو میں اخلاص تھا، یقین تھا اور عمل کی حرارت تھی۔ وہ صرف زبان سے بات کرنے والا شخص نہیں تھا بلکہ جو کچھ کہتا تھا، اپنی زندگی میں اس کی عملی تصویر بھی پیش کرتا تھا۔ بعد کے برسوں میں اس نے اپنے خون سے اس عہد کی گواہی دی اور سرزمینِ کشمیر کی مٹی کو اپنے لہو سے رنگین کر کے وفا کی ایک نئی داستان رقم کر گیا۔یہ عظیم مردِ مجاہد منصور الحق المعروف محمد اشرف خان تھے، جنہوں نے ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) کے علاقے ٹنگپاوا ککر ناگ کے ایک دیندار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ بچپن ہی سے منصور الحق کے مزاج میں سنجیدگی، عبادت گزاری اور دین سے وابستگی نمایاں تھی۔جب انہوں نے شعور کی دہلیز پر قدم رکھا تو وادیٔ کشمیر میں قربانیوں اور شہادتوں کی خوشبو ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ نوجوان نسل آزادی اور حق کے حصول کے جذبے سے سرشار تھی۔ انہی حالات نے منصور الحق کے دل میں بھی ایک عظیم مقصد کے لیے جینے اور مرنے کا عزم پیدا کیا۔ چنانچہ کم عمری ہی میں انہوں نے اپنی زندگی کو ایک نصب العین کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔1999ء میں وہ حزب المجاہدین کی صفوں میں شامل ہوئے اور عسکری تربیت کے لیے بیس کیمپ پہنچ گئے۔منصور الحق کی پوری زندگی جہاد، ایثار اور مقصد سے وابستگی کا استعارہ تھی۔ وہ ہر وقت جہاد کے فضائل، اس کے تقاضوں اور اس کے لیے درکار علمی، فکری اور جسمانی تیاری میں مصروف رہتے۔

ان کے نزدیک ایک مجاہد کے لیے صرف ہتھیار اٹھانا کافی نہیں بلکہ علم، کردار، تقویٰ اور نظم و ضبط بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔وہ انتہائی ملنسار، خوش اخلاق اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ جسمانی طور پر مضبوط، چست اور سخت جان نوجوان تھے۔ چھ برس تک مسلسل تربیت اور ریاضت کے مراحل سے گزرنے کے بعد وہ ہر اعتبار سے ایک منجھے ہوئے کارکن اور قائد کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔ جہاد کی راہ میں آنے والی تکالیف، مصائب اور آزمائشوں کو انہوں نے دنیاوی آسائشوں پر ترجیح دے دی تھی۔ ان کے بلند حوصلوں کے سامنے برف پوش پہاڑ، دشوار گزار راستے اور سرحدی رکاوٹیں بھی بے معنی محسوس ہوتی تھیں۔
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
تمام خطرات اور دشواریوں کو عبور کرتے ہوئے وہ اپنے ساتھیوں سمیت وادیٔ کشمیر پہنچے اور عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ان کی عسکری صلاحیت، قائدانہ صلاحیتوں اور تنظیمی مہارت کو دیکھتے ہوئے انہیں ضلع اسلام آباد کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔انہوں نے نہایت مشکل حالات میں بھی اپنی ذمہ داری احسن انداز میں نبھائی۔ دوسری طرف بھارتی فوج کو ان کی سرگرمیوں کی اطلاع مل چکی تھی، جس کے بعد انہیں گرفتار کرنے کے لیے مسلسل چھاپے مارے جانے لگے۔ منصور الحق کئی مرتبہ دشمن کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے، لیکن بالآخر 2006ء میں مخبروں کی مدد سے گرفتار کر لیے گئے۔
تمام تر دباؤ اور تشدد کے باوجود وہ اپنے ساتھیوں یا تنظیم سے متعلق کوئی راز افشا نہ کر سکے۔ بالآخر 2013ء میں انہیں رہا کر دیا گیا۔رہائی کے بعد عام انسان شاید آرام اور سکون کی زندگی اختیار کرتا، لیکن منصور الحق نے ایک بار پھر وہی راستہ چنا جس کے لیے انہوں نے اپنی جوانی وقف کر رکھی تھی۔ وہ سیدھے اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ گئے اور دوبارہ سرگرم ہو گئے۔ یہی وہ دور تھا جب برہان مظفر وانی کی قیادت میں نئی نسل متحرک ہو رہی تھی اور سوشل میڈیا بھی جدوجہد کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا تھا۔2013ء سے 2022ء تک وہ مسلسل سرگرم رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے متعدد گوریلا کارروائیوں کی قیادت کی اور کئی اہم معرکوں میں حصہ لیا۔ ان کے ساتھیوں میں برہان مظفر وانی، ڈاکٹر سیف اللہ، ریاض احمد نائیکو اور یاسین یتو جیسے معروف نام شامل تھے۔ وہ اپنے علاقے میں طویل عرصے تک سرگرم رہنے والے تجربہ کار ترین کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔بالآخر 6 مئی 2022ء کا دن آیا جب پہلگام کے سرچن جنگلاتی علاقے میں ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا گیا
محاصرے کے دوران شدید جھڑپ شروع ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ جنگل گولیوں کی گھن گرج سے لرز اٹھا۔ منصور الحق اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے رہے۔ طویل مزاحمت کے بعد وہ اپنے دو رفقاء محمد روشن ضمیر تانترے عرف زید بھائی اور محمد رفیق درنگے عرف ابو ضرار کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔ان کی شہادت حزب المجاہدین اور ان کے رفقائے کار کے لیے یقیناً ایک بڑا نقصان تھی، لیکن انہوں نے اپنی زندگی کے آغاز میں اپنے رب سے جو عہد کیا تھا، اسے نبھا دیا۔ انہوں نے اپنے خون سے وفا کی وہ داستان لکھی جو آنے والی نسلوں کو عزم، استقامت اور قربانی کا پیغام دیتی رہے گی۔ انہوں نے اپنے خونِ جگر سے اپنے گلشن کے پھولوں کو سیراب کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ میں اپنا نام رقم کر گئے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام شہداء کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے ۔ آمین۔







