جواب حاضر ہے

مفتی خالد عمران خالد

دینی اور شرعی مسائل میں رہنمائی
سوال ۔۔۔زیدکی ساری اولادیں لڑکیاں ہیں تو مرحوم کی وراثت میں لڑکیوں کے ساتھ اور کوئی وارث بن سکتا ہے اس کا جواب مرحمت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائے
جواب
۔۔۔مذکورہ صورت میں مرحوم کی بیٹیوں کے ساتھ مرحوم کا بھائی ، بہن ، بھائی کے بیٹے ، مرحوم کا چچا وارث بن سکتے ہیں ۔
سوال ۔۔۔ایک آدمی پب جی گیم یا ٹک ٹاک سے پیسے کماتا ہے تو اس شخص کے ساتھ قربانی کرنا جائز ہے کہ نہیں
جواب
۔۔۔ٹک ٹاک کھیلنا اور پب جی کھیلنا یہ دینی کام ہے اور نہ ہی اخروی اور اس طرح کا کام کرنے والے کے ساتھ قربانی کرنا مکروہ ہے ناپسندیدہ ہے

سوال ۔۔۔بچہ کے پیدا ہونے کے بعد کیا بیوہ نکاح کرسکتی ہے ؟
جواب
۔۔۔بچہ کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی عدت ختم ہو جاتی ہے اور جیسے ہی عدت ختم ہو خاتون نکاح کر سکتی ہے اس میں کوئی چیز مانع نہیں ہے
سوال ۔۔۔عدت کی مدت کیا ہے؟
جواب
۔۔۔مطلقہ اگر حاملہ ہو تو عدت وضع حمل ہے جب بچہ پیدا ہو جائے اور اگر حاملہ نہیں چار مہینے اور دس دن ہیں اس کے بعد خاتون دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے
سوال ۔۔۔مدتِ عدت اور مدتِ رضاعت میں کیا فرق ہے؟
جواب
۔۔۔مدتِ عدت اس مدت کو کہتے ہیں جس میں طلاق یافتہ یا بیوہ عورت دوسری شادی نہیں کر سکتی۔اگر شوہر کا انتقال ہو جائے تو عدت چار ماہ دس دن ہے۔اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضعِ حمل (بچے کی پیدائش) تک ہے، خواہ مدت کم ہو یا زیادہ۔طلاق کی صورت میں غیر حاملہ عورت کی عدت عموماً تین حیض (یا تین قمری ماہ) ہوتی ہے۔مدتِ رضاعت اس مدت کو کہتے ہیں جس میں بچے کو دودھ پلانے سے رضاعت کے احکام ثابت ہوتے ہیں۔ شریعت کے مطابق رضاعت کی مدت دو قمری سال (چوبیس ماہ) ہے۔ اس مدت کے اندر دودھ پینے سے رضاعی رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور نکاح کے بعض احکام نافذ ہوتے ہیں۔لہٰذا عدت عورت کے نکاح سے متعلق ایک شرعی مدت ہے، جبکہ رضاعت بچے کے دودھ پینے سے متعلق ایک شرعی مدت ہے۔ دونوں کے احکام اور مقاصد الگ الگ ہیں۔نوٹ: بعض فقہی مذاہب، خصوصاً فقہِ حنفی میں، رضاعت کے بعض احکام کے لیے مدت ڈھائی سال (تیس ماہ) تک بھی مذکور ہے، تاہم جمہور فقہاء کے نزدیک رضاعت کی اصل مدت دو سال ہے۔
سوال ۔۔۔زید نے عمر سے کہا کہ میرا پلاٹ ہے وہ میرے لئے فروخت کرو ۔۔تیس لاکھ میں میرے لئے فروخت کرو اور اگر اس سے زیادہ میں فروخت کیا تو وہ تیرے ہیں ۔اب پوچھنا یہ کہ کیا اس صورت میں مجہول منافع پر اسکو وکیل بنانا جائز ہے یا نہیں
جواب
۔۔۔بائع اور وکیل کے درمیان جس بات پہ اتفاق ہو جائے اور کسی پہ ظلم نہ ہو تو یہ جائز ہے
سوال ۔۔۔کیا قربانی میں نیت کا خالص ہونا ضروری ہے؟ اگر ایک بڑے جانور میں کئی افراد شریک ہوں اور ان میں سے کوئی ایک قربانی کے بجائے کسی اور نیت (مثلاً صرف گوشت حاصل کرنے) سے شریک ہو تو کیا سب کی قربانی درست ہوگی؟
جواب
۔۔۔قربانی عبادت ہے، اس لیے اس میں اللہ تعالیٰ کا تقرب مقصود ہونا ضروری ہے۔ اگر بڑے جانور میں شریک تمام افراد کی نیت قربانی، نذر یا کسی ایسی عبادت کی ہو جس سے تقرب الی اللہ حاصل ہوتا ہے تو سب کی قربانی درست ہوگی۔لیکن اگر شرکاء میں سے کسی ایک کی نیت محض گوشت حاصل کرنا ہو اور اس کی نیت تقرب الی اللہ کی نہ ہو، تو تمام شرکاء کی قربانی فاسد ہو جائے گی، کیونکہ قربانی میں شریک تمام افراد کا مقصد عبادت اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہونا چاہیے
سوال۔۔۔گر ایک غریب آدمی، جس پر قربانی واجب نہیں تھی، قربانی کا جانور خرید لے اور عید سے پہلے وہ جانور مر جائے یا گم ہو جائے، تو کیا اس پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم ہے؟
جواب
:۔۔۔ اگر کوئی غیر صاحبِ نصاب (غریب) شخص قربانی کی نیت سے جانور خرید لیتا ہے تو اس جانور کی قربانی اس کے ذمہ لازم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اگر وہ جانور عید سے پہلے مر جائے یا گم ہو جائے تو اس پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا واجب ہوگا۔البتہ اگر کوئی صاحبِ نصاب (جس پر قربانی واجب ہے) شخص قربانی کا جانور خریدے اور وہ جانور مر جائے یا گم ہو جائے تو اس مخصوص جانور کی قربانی لازم نہیں رہتی، لیکن چونکہ اصل قربانی اس کے ذمہ واجب ہے، اس لیے اسے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنی ہوگی۔
سوال ۔۔۔آئی ایم ایف کا ہر بندہ مقروض ہے، کیا آئی ایم ایف کے مقروض پہ قربانی واجب ہے یا نہیں ؟
جواب
۔۔۔وجوبِ قربانی سے مانع وہ قرض ہوتا ہے جو انسان نے بذاتِ خود لیا ہو، ایسا قرضہ جو صاحبِ نصاب نے بذاتِ خود نہ لیا ہو ، بلکہ لینے والا حکمران یا کوئی اور ہو، تو مقروض قرض قربانی واجب ہونے سے مانع نہیں ہوتا، لہٰذا جو شخص ذاتی طور پر صاحبِ نصاب ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ملکی قرضہ کی وجہ سے مقروض عوام پر زکاۃ نہیں ہے
سوال ۔۔ایک مدرسہ ہے حفظ کا، اس میں بچے قران مجید پڑھ کے چلے جاتے ہیں اور مدرسے کی عمارت کرائے کی ہے ،لازماََ ان کے بل وغیرہ بھی اتے ہیں بچوں کی اگرچہ تھوڑی سی فیس رکھی ہوئی ہے لیکن اس سے مدرسے کے اخراجات پورے نہیں ہوتے اور نہ ہی استانی صاحبہ کی تنخواہ پوری ہوتی ہے تو کیا ایسے مدرسے کے لیے قربانی کی کھالیں جمع کرنا یا زکوٰۃ اور صدقہ کی رقم لینا جائز ہوگا یا نا جائز ۔
جواب
۔۔۔قربانی کی کھالیں ایسے دینی ادارے کو دی جا سکتی ہے اس میں کوئی چیز مانع نہیں ہے
سوال ۔۔۔یونیورسٹی کی کچھ فی میل سٹوڈنٹس چہرے کے پردے کے بارے کہتی ہیں کہ یہ کوئی ضروری نہیں بس سر کے بال چھپے
ہوں کافی ہے عبایا وغیرہ کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔جبکہ ہم نے سنا ہے کہ عورتیں جب گھر سے باہر نکلیں تو بڑی چادریں لےکر نکلیں ۔۔ کچھ راہنمائی فرما دیں۔۔بحیثیت سٹوڈنٹ یہ بھی سوال ہے پہلی شریعتوں میں چہرے کا پردہ نہیں تھا کیا۔۔۔۔؟ اور ہماری شریعت میں اس کی حکمت۔۔۔۔
جواب
۔۔۔شریعت میں چہرے کا پردہ موجود ہے اللہ تعالی نے اپنے حبیب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم دیا اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو کہہ دو کہ وہ جب گھر سے نکلنے لگیں تو اپنے چہرے کو ڈھانپ لیں۔پردہ بنیادی طور پہ اسی چیز کا ہوتا ہے جس کی وجہ سے کشش پیدا ہو اور جسے مستور رکھا جائے چھپایا جائے۔۔ عورت کا مطلب ہی پردہ ہے اور عورت کا چہرہ بھی پردے میں شامل ہے
سوال ۔۔۔قربانی کا مصرف کیا ہے
جواب
۔۔۔قربانی کے کھالوں کے مصارف زکوٰۃ کے مصارف کی طرح ہیں
نفس مدرسے کے لیے اس کا استعمال جائز نہیںالبتہ اگر طلباء یا استاد یااستانی صاحبہ مستحق زکوٰۃ ہیں تو قربانی کے کھالیں جمع کرسکتے ہیں
سوال ۔۔۔ایک آدمی کے پاس دو بکرے ہیں اسکی نیت تھی کہ ایک بکرا قربانی کے لیے اور ایک بکراعقیقہ کے لیے اوراب وہ چاہتے ہیں کہ دونوں بکرےعقیقہ میں ہی استعمال کرلوں اور کسی اجتماعی قربانی میں حصہ ڈال کر قربانی کروں ۔معلوم کرنا ہے کہ قربانی کی نیت سےجو بکرا ہے اسکوعقیقہ میں دے سکتے ہیں.
جواب
۔۔۔بہتر اور افضل یہی ہے جو چیز جس مقصد کے لیے اور جس نیت سے خریدی جائے اسی میں استعمال کی جائے لیکن اگر وہ یہ کرتے ہیں تو جائز ہے ۔
سوال۔۔۔امام کے لئے قرأت مسنونہ کیا ہے؟اس قرأت مسنونہ پر بھی اگر مقتدی معترض ہوں اور امام کا مؤقف ہو کہ یہ قرأت چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی ہے میں یہی کروں گا ۔ تو امام کے اس مؤقف سے متعلق شریعت کیا ہے
جواب
۔۔۔قرأت مسنونہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کرنا افضل ہے اگر کوئی اور کرتا ہے تب بھی جائز ہے لیکن ترتیب واجب ہے اس کا خیال رکھنا چاہیے
سوال۔۔۔اگر امام کو ظن غالب ہو کہ اگر وہ نماز میں مسنون قرأت کا لحاظ رکھے گا تو مقتدی بلا عذر مسجد میں کم آئیں گے یا تو کسی اور
مسجد میں جائیں گے یا پھر گھر میں پڑھیں گے تو اب امام مسنون قرأت کرے یا پھر مقتدیوں کا لحاظ رکھے؟
جواب
۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانے کا حکم فرمایا ہے، ہلکی نماز کا مطلب یہ ہے کہ نماز مقدارِ مسنون سے طویل نہ ہو، یعنی قراءت کی مقدار مسنون قرأت سے زائد نہ ہو، اور نہ ہی رکوع سجود میں تسبیحات پانچ سے زائد مرتبہ پڑھے، البتہ اگر دوران نماز کوئی ایسا عذر پیش آجائے جو نماز میں مخل ہو تو اس صورت میں مسنون قرأت ترک کرنے کی بھی اجازت ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں لوگوں کی سستی اور کاہلی کی وجہ سے مسنون قرأت مستقل طور پر ترک کرنے کی شرعًا اجازت نہ ہوگی،البتہ امام صاحب قرأت بہت زیادہ تکلفات کے ساتھ نہ کریں ،تجوید کی رعایت رکھتے ہوئے روانی سے قرأت کریں گے تو مسنون قرأت اور مقتدی حضرات دونوں کی رعایت ہوجائے گی۔ نیز امام صاحب کو چاہیے کہ حکمت و نرمی کے ساتھ رسول اللہ ؐ کا عمل مقتدیوں کو بتائیں اور انہیں ترغیب دیں تو امید ہے کہ ان شاء اللہ وہ شوق سے آئیں گے۔۔۔جب مقتدیوں کو حرج ہو تو امام کے لیے باجماعت نماز میں مقدارِ مسنون سے زائد تلاوت کرنا مکروہ تحریمی ہے
سوال ۔۔۔وقف قربانی کس کو کہا جاتا ہے اور اس سے کیا مراد ہے اور اس کے کیا مقاصد ہوتے ہیں
جواب
۔۔۔عرف عام میں جو “وقف قربانی” کہا جاتا ہے، اس سے عموماً مراد ایسی قربانی ہوتی ہے جو فی سبیل اللہ غریبوں، مساکین اور ضرورت مندوں کے لئے کی جائے، تاکہ اس کا گوشت معاشرے کے مختلف طبقات اور افراد تک پہنچ سکے۔
یہ دراصل اصطلاحی “وقف” نہیں ہوتا، بلکہ قربانی کے جانور یا اس کے گوشت کو رفاہی اور خیراتی مصرف میں دینا مقصود ہوتا ہے، چنانچہ بعض ادارے یا افراد اجتماعی طور پر قربانی کرکے اس کا گوشت غرباء، مدارس، یتامیٰ یا مستحق خاندانوں میں تقسیم کرتے ہیں، اسی کو عرف عام میں “وقف قربانی” کہا جاتا ہے، اس کا بہتر نام “فی سبیل اللہ قربانی” ہے۔البتہ شرعی اعتبار سے قربانی کے احکام وہی رہیں گے جو عام قربانی کے ہیں۔

مفتی خالد عمران خالد