صدائے عام

بدرعبداللہ

کشمیر… ایک ایسا زخم جو کبھی بھرتا نہیں، ایک ایسی چیخ جو سنائی نہیں دیتی، اور ایک ایسا درد جو ہر دل میں ہے مگر لفظوں میں سماتا نہیں۔ریاست جموں و کشمیر آج پانچ حصوں میں بٹی ہوئی ہے، مگر اصل تقسیم زمین کی نہیں، دلوں کی ہے۔ایک طرف ماں ہے، دوسری طرف بیٹا۔ایک طرف بھائی ہے، دوسری طرف بھائی۔یہ فاصلے میلوں کے نہیں… صدیوں کے محسوس ہوتے ہیں۔وہ منظر کون بھول سکتا ہے…؟دریائے نیلم کے کنارے کھڑے وہ بے بس لوگ…جن کی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کا جنازہ تھا، مگر وہ صرف دیکھ سکتے تھے، چھو نہیں سکتے تھے۔
آواز دے سکتے تھے، مگر سنوا نہیں سکتے تھے۔
آنکھیں رو رہی تھیں… مگر آنسو بھی بے اختیار تھے۔
یہ کیسی زندگی ہے…؟
جہاں بات کرنا بھی جرم بن جائے…
جہاں ایک فون کال انسان کو تھانے کی دہلیز تک لے آئے…
جہاں رشتے دبئی اور برطانیہ کے راستوں سے سانس لیں…
یہ زندگی نہیں… یہ زندہ لاشوں کا سفر ہے۔
مقبوضہ کشمیر کا ہر انسان ایک چلتی پھرتی داستان ہے
درد کی، ظلم کی، اور بے بسی کی داستان۔
کسی کا پاسپورٹ ضبط، کسی کی زمین چھین لی گئی، کسی کا مستقبل اندھیروں کے حوالے کر دیا گیا۔
ہر دروازے پر خوف کی دستک ہے، ہر گلی میں خاموشی چیخ رہی ہے۔
وہ ظلم بھی اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے
معصوم بچیوں کی عصمت دری، گھروں اور دکانوں کو آگ لگانا، پوری بستیوں کو خاکستر کر دینا…
یہ سب ایک معمول بن چکا ہے۔
نوجوانوں پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں دہشت گرد قرار دینا، ان پر تشدد کرنا، ان کے تعلیمی اور معاشی مستقبل کا قتلِ عام کرنا… یہ سب سرِعام ہو رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب آزادی کی امید زندہ تھی،جب نوجوان سینوں پر گولیاں کھا کر بھی مسکرا دیتے تھے۔جب حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور جیش محمد کے نام سن کر دشمن کے قدم ڈگمگا جاتے تھے۔
مگر آج…وہی وادی سسک رہی ہے، وہی خواب بکھر چکے ہیں۔

امام سید علی گیلانی کی آواز آج بھی فضا میں گونجتی محسوس ہوتی ہے۔وہ آواز جو امید تھی، جو حوصلہ تھی، جو ایک چراغ تھی۔اور شیخ عبدالعزیز کی “راولپنڈی چلو” کی صدا…آج بھی دلوں میں دفن ایک ادھورا خواب ہے۔آج سوال صرف دشمن سے نہیں…سوال اپنے آپ سے بھی ہے۔کہاں ہیں وہ جو کشمیریوں کے وکیل تھے؟کہاں ہے وہ آواز جو دنیا کے ایوانوں میں گونجتی تھی؟کیوں آج ہر طرف ایسی خاموشی ہے… جو چیخوں سے زیادہ خوفناک ہے؟خوشیاں ہمیشہ اپنوں کے ساتھ منائی جاتی ہیں…مگر یہاں تو اپنے ہی بچھڑ چکے ہیں۔کوئی ہجرت کے سفر میں ہے، کوئی جیل کی سلاخوں کے پیچھے۔درد کے آنسو بہتے ہیں… اور دل اپنوں کے لیے تڑپتے رہتے ہیں۔ہندوستان نے کشمیریوں پر ظلم کا ایک طویل اور تاریک دور مسلط کر رکھا ہے۔
اب سوال یہ ہے
کس کے سینے سے لگیں گے؟
کس کو عید کی مبارک دیں گے؟
کس کے ساتھ خوشیاں بانٹیں گے؟
ایک طرف عید کی رونقیں ہیں…بچے اپنے باپ کے انتظار میں دروازے تک دیکھتے ہیں…خوشیاں ماتم میں بدل جاتی ہیں، اور زندگیاں ایک لمحے میں اجڑ جاتی ہیں۔
یہ کون لوگ ہیں…؟جوہمارے خوابوں کو بارود سے اڑا دیتے ہیں…جو ہماری زمین کو خون سے رنگ دیتے ہیں…اور ہم… بس دیکھتے رہ جاتے ہیں۔کشمیر کا ہر باسی آج یہ سوال کر رہا ہے:
کیا ہم واقعی اکیلے ہیں…؟
قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا۔
علامہ اقبال نے اسے جنت نظیر قرار دیا تھا۔
مگر آج…وہی جنت آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی ہے۔
ہم نے اس راستے میں اپنے بیٹے قربان کیے، اپنے بھائی کھوئے، اپنی ماؤں کو رُلایا…
وہ سب کامیاب ہو گئے…
مگر ہم آج بھی اسی سوال کے ساتھ کھڑے ہیں
کیا ہم نے ان کے خواب کو پورا کیا؟
وقت ابھی بھی ہے…
اگر ہم جاگ جائیں…
اگر ہم ایک ہو جائیں…
اگر ہم صرف باتوں سے نکل کر عمل کی طرف آ جائیں۔
کشمیر آج بھی پکار رہا ہے…
اس کی وادیاں آج بھی سسک رہی ہیں…
اس کے دریا آج بھی خون کے آنسو بہا رہے ہیں…
اور اگر ہم نے آج بھی نہ سنا…
تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔