معرکے

بھارتی فوج، پولیس اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میںمشترکہ چھاپوں اور تلاشیوں کا سلسلہ بدستور جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عوام میں خوف و ہراس ،درجنوں نوجوان گرفتار،،متعدد جائیدادیں ضبط،قیمتی اشیاء کی توڑپھوڑ

ہمایوں قیصر

16 اپریل2026 ۔۔۔۔بدنام زمانہ بھارتی ایجنسی’’این آئی اے ‘‘نےضلع اسلام آباد کے علاقے بیج بہاڑہ میں رئیس احمد ڈار، سبزار احمد ڈار، مدثر احمد اور زاہد احمد کے رہائشی مکانات سمیت دیگر چار جائیدادیں بھی کالے قانون کے تحت ضبط کر لیں ۔جبکہ انتظامیہ نے ضلع پلوامہ میں مختار احمد نامی شہری کی کمرشل املاک کومسمار کر دیاہے۔
18 اپریل 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر بھارتی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے فلاح عام ٹرسٹ ادارے کے زیر انتظام کم از کم 58 اسکولوں کو قبضے میں لینے کے حوالے سے ایک حکمنامہ جاری کیا۔ مقبوضہ علاقے کے محکمہ سکول ایجوکیشن نے سکولوں کی ضبطی کے حوالے سے بھارتی محکمہ داخلہ کے اس نوٹیفکیشن کا بھی حوالہ دیا جس میں جماعت اسلامی کو کالے قانون ’’یو اے پی اے‘‘کے تحت ایک ممنوعہ تنظیم قرار دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے جماعت اسلامی پر فروری 2019ءمیں پابندی عائد کر دی تھی ۔
ضلع اسلام آباد کے دیالگام علاقے میں ایک نوجوان آصف احمد بٹ لاپتہ ہوگیا۔ ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں بھارتی پولیس نے سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھلانے اور امن و امان کو خراب کرنے کے الزام میں 16نوجوانوں کو گرفتارکرلیا۔یاد رہے کہ رواں ہفتے کے شروع میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول سوپور میں ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کے الزا م کے خلاف طلبااو ر مقامی نوجوانوں نے پرامن احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔
19 اپریل 2026 ۔۔۔ضلع پونچھ کے مینڈھر کے علاقے بالاکوٹ میں کنٹرول لائن کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک بھارتی فوجی زخمی ہو گیا۔ ضلع جموںکے علاقے نگروٹہ میں فوجی کیمپ کے فیملی کوارٹرز کے علاقے میں ڈاگ یونٹ کا فوجی اپنے کمرے کی چھت سے رسی سے لٹکا ہوا پایا گیا۔

20 اپریل 2026۔۔۔گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے قریب نامعلوم حملہ آوروں کے حملے میں ایک پولیس اہلکارحوالدار سندیپ سنگھ زخمی ہوگیا ۔مقبوضہ کشمیر میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین (جی سی ڈبلیو)گاندھی نگر جموں کی طالبات نے ایک ساتھی طالبہ کی ہلاکت پر کالج کے باہر احتجاج کیا۔مظاہرے میں طالبات کی ایک بڑی تعداد شریک تھی،جنہوں نے ساتھی طالبہ کی ہلاکت کیخلاف نعرے لگائے اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ۔ بھارتی فوج نےضلع بارہمولہ کے علاقوں سوپور، رفیع آباد، زینہ گیر، پٹن اور سنگرامہ میں کئی رہائشی مکانوں کی تلاشی لی۔اس دوران بھارتی فوج نے لوگوں کے گھروں میںگھس کر انہیں ہراساں کیااور قیمتی اشیاء کی توڑ پھوڑ کی۔
21 اپریل 2026۔۔۔ضلع بارہمولہ کےقصبے سوپور کے علاقے بوہری پورہ میں سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد رات کی تاریکی میں ایک باغ میں گھس گئے جہاں انہوں نےدرجنوںسیب کے درجنوں درختوں کو کاٹ کر تباہ کردیا۔باغ کے مالک قلبی حسین میر کے تقریبا 55 اعلیٰ معیار کے سیب کے درختوں کو کاٹ دیاگیاہے ، جس سے ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ متاثرہ خاندان نے قابض انتظامیہ سے ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ضلع بڈگام ہمہامہ کیمپ میں ایک بھارتی فوجی اہلکارڈیوٹی کے دوران حرکت قلب بندہونے سے ہلاک ہو گیا۔
22 اپریل 2026۔۔۔بدنام زمانہ بھارتی ایجنسی’’ این آئی اے‘‘ نے بھارتی فوج کے ہمراہ ایک چھاپے کے دوران ضلع پلوامہ کے علاقے لیتہ پورہ میں فیاض احمد ماگرے کے دو منزلہ مکان اور ایک منزلہ مکان کو قبضے میں لے لیا۔ حکام نے اس ظالمانہ کارروائی کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیاض ماگرے 2017 میں لیتہ پورہ میں بھارتی فوج کے ایک تربیتی کیمپ پر حملے میں ملوث ہے۔
23 اپریل2026 ۔۔۔بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ’این آئی اے‘ نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے راج پورہ ابہامہ میں تنویر احمد وانی کی 3کنال اور4مرلہ اراضی کالے قانون ’’یو اے پی اے‘‘ کے تحت ضبط کی ہے ۔

24 اپریل 2026 ۔۔۔ بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے’’ این آئی اے‘‘ نے سرینگر کے علاقے نوگام کے رہائشی تفضل حسین پر آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور آزادی پسند کارکنوں کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام میں بڈگام کے علاقے ایس کے باغ میں واقع ساڑھے 11مرلہ اراضی کالے قانون ’’یو اے پی اے‘‘کے تحت ضبط کرلی ہے۔ بھارتی پولیس نےبلاجواز سوپور قصبے میں 6کشمیری نوجوانوں عمر اکبر حجام، سلمان احمد شالہ، الطاف احمد شیخ، مبشر احمد، مزمل مشتاق اور ماجد فردوس کو سوپور گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں اسکول کی ایک طالبہ کی بے حرمتی کے خلاف طلبا کے خلاف احتجاج کرنے پرگرفتار کر کے ان پر کالاقانون’’ پی ایس اے‘‘ لاگو کر دیاہے ۔ بھارتی پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار کئے گئے کشمیری نوجوان سوپور میں طلبا کے حالیہ احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔
25اپریل 2026 ۔۔۔۔ضلع پونچھ کے نورکوٹ دیگورار علاقے میںکنٹرول لائن کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک چھ برس کا لڑ محمد رضوان کا زخمی ہو گیا۔ بھارتی انتظامیہ نے سرینگر کے علاقے نور باغ کے رہائشیوں شکیل احمد گنائی اور فاروق احمد میر کے ایک ایک کنال اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ رہائشی گھر ضبط کر لیے ۔ گھروں کی مالیت کل 5کروڑ ررپے بتائی جارہی ہے۔
26 اپریل2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے اپنی ظالمانہ کارروائیوں کوتیز کرتے ہوئے وادی کشمیر میں مختلف علاقوںمیںچھاپوں، گرفتاریوں اور املاک کو ضبط کرنے کا سلسلہ جاری رکھاجبکہ اسلام آباد میں سب سے زیادہ کارروائیاں کیں جہاں 20کے قریب مقامات پر چھاپے مارے گئے اورتلاشی لی گئی۔ بھارتی افواج کے اہلکاروںنے اپنی کارروائیوں کے دوران مقامی لوگوں کے گھروںپر دھاوا بول دیا جس سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔
27 اپریل 2026 ۔۔۔ ضلع جموں کے میران صاحب علاقے میں بھارتی فوج کی تلاشی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ابھینیت سنگھ نامی شخص زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئےچل بسا۔

28 اپریل 2026 ۔۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک تلاشی کارروائی کے دوران سرینگر کے علاقے خانموہ میں کالے قانون ”یو اے پی اے‘‘ کے تحت پانچ نوجوانوں کو گرفتار کرکیا ہے۔بھارتی فورسز نے ان گرفتاریوں کو جواز پیش کرنے کیلئے نوجوانوں کے قبضے سے دو دستی بم، دو میگزین، گولہ بارود اور ایسے پوسٹرز برآمد کرنے کا دعویٰ کیاہے جن پر آزادی کے حق میںنعرے درج تھے ۔
30 اپریل 2026 ۔۔۔ ضلع شوپیاں کے علاقے اگلر میں فروٹ منڈی میں ایک کولڈ اسٹوریج یونٹ میں ایک دھماکے میں ایک غیر کشمیری بھارتی انجینئر ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہوگئے ، زخمیوںکی شناخت دلیپ کمار اور رام کمار کے طور پر ہوئی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے اظہار رائے کی آزادی کے حق پر ایک اور حملے میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی کے خلاف بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی شہید کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔سید علی گیلانی کا یہ ویڈکلپ اردو زبان کی اہمیت و افادیت کے بارے میںہے جسے بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت ختم کر نے کےاقدامات کررہی ہے۔
2 مئی 2026۔۔۔۔۔ ضلع پلوامہ کے علاقے میں بھارتی فوج نے ایک چھاپے کے دوران ملک محمد عمر ملک کو کالے قانون کے تحت گرفتارکرلیا ،فوج نے ان کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کیلئے اس پر عسکریت پسندوں کیلئے کام کرنے کا الزام عائد کیا ہےاور گرفتار شخص سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ضلع رامبن میں ڈگڈول کے قریب نالہ بشلری سےلاپتہ نوجوان تنویر احمد چوپان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ تنویر احمد چوپان نامی نوجوان اپریل کے مہینے میں اس وقت لاپتہ ہو گیا تھا جب سرینگر جموں ہائی وے پر مکرکوٹ کے قریب اس نے نام نہاد گاؤ رکھشکوں (گائے کے محافظوں) کے تشددسے بچنے کے لئے نالے میں چھلانگ لگائی۔
4 مئی 2026۔۔۔۔ضلع پلوامہ کے ترال لاڈی یارعلاقے میں ایک بھارتی فوجی اہلکاربسو انوین کمار نے اپنی سروس رائفل سے خود پر گولی مارکرخودکشی کرلی ہے ۔
5 مئی 2026۔۔۔۔ بھارتی۔ قابض حکام نے مقبوضہ علاقے کے مختلف حصوں میں عام کشمیریوں کےگھروں اور دکانوں کومسمارکرنے کی متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ مقامی افراد نے اس اقدام کو انتقامی کارروائی قرار دیایے جس نے کئی خاندانوں کو معاشی طور پر تباہ کر دیا ہے۔بھارتی پولیس نےسرینگر کے علاقے پل پورہ نورباغ میں ایک کشمیری کے گھر کو بے بنیاد الزام لگا کرمسمار کردیا ۔
6 مئی 2026 ۔۔۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے جیل سے ضمانت پر رہاہونے والے ایک اور کشمیری کیساتھ ”جی پی ایس“ ٹریکر نصب کر دیاہے۔ بھارتی پولیس نے ضلع اسلام آباد کے رہائشی فیاض احمد ڈارکی مسلسل نگرانی کیلئے ان کے ٹخنوں کیساتھ” جی پی ایس“ ٹریکنگ ڈیوائس لگائی ہے۔ فیاض احمد کو حال ہی میں ایک جعلی مقدمے میں ضمانت پر رہا گیا ہے۔
7 مئی 2026 ۔۔۔۔ضلع شوپیاں میں جامعہ سراج العلوم کے سینکڑوں طلباء،انکے والدین اوراساتذہ نے کالے قانون کے تحت مدرسے کی بندش کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے ادارے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا جسے بھارتی حکومت نے غیر قانونی قراردیکر گزشہ ماہ سیل کر دیا تھا۔ احتجاجی طلبا نے جامعہ سراج العلوم سے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شوپیاں کے دفتر تک مارچ کیا ۔انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ”ہمار مستقبل بچائو ‘‘جیسے نعرے درج تھے ۔ حکام نے ادارہ بند کر کے طلبہ کامستقبل تاریک کر دیا ہے اور وہ سخت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔طلباء کا کہنا تھا کہ بورڈ کے امتحانات قریب ہیں اور اس نازک وقت میں ہمیں سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کیا جار ہا ہے ۔ ضلع بارہمولہ کے سوپور کےعلاقےگنڈ براٹھ میں ایک ظالمانہ کارروائی کے دوران بھارتی فوج کی ایک گاڑی نے جان بوجھ کر ٹکر مار کر ایک تین سال کے بچے محمد زین ولد عامر حسین کو شہید کردیا۔ اس کارروائی کے خلاف عوام نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور فوج کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ ملوث فوجی کو قرارواقعی سزا دی جائے۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن میںبھارتی بد نام ایجنسی’’این آئی اے ‘‘نے ایک کشمیری ضمیر احمد لون کی ایک کنال اور 14مرلے سے زائد اراراضی ضبط کی۔
8 مئی 2026 ۔۔۔ ضلع اسلام آباد کے علاقے کوکرناگ میں قائم بھارتی فوج کے ایک کیمپ میں ایک فوجی اہلکار کانسٹیبل ستیش کمار نے اپنی ہی سروس ہتھیار سے خود پر گولی چلاکر خودکشی کرلی۔
9 مئی 2026۔۔۔۔ضلع گاندربل کے علاقے ینہامہ تھورو میں ایک نہر سے عدم شناخت شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
10 مئی 2026۔۔۔۔ ضلع بارہمولہ کے علاقے جانبازپورہ میں انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں بھارتی انتظامیہ نےریاض احمد خان نامی شہری کی دکان مسماری کردی۔پولیس نے سرینگر میں برتھانہ، قمرواری کے شاہد مشتاق ڈار کی تقریباً 80 لاکھ روپے کی جائیداد ضبط کر لی اور کسی ثبوت کے بغیر جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اثاثے منشیات کے کاروبارسے حاصل کیے گئے ہیں۔جبکہ اسی الزام میںدو اور کارروائیوں میں بھارتی پولیس نے نوگام واگورہ، بی کے پورہ اور سرینگر کےعلاقوںمیں معراج الدین گنائی کی جائیداد ضبط کرلی جس میں 18 مرلہ اراضی، ایک منزلہ مکان اور ایک گاؤ خانہ شامل ہے جس کی قیمت تقریباً 1.5 کروڑ روپے ہے۔ سرینگر کے علاقے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 1.2 کروڑ روپے مالیت کا ایک دو منزلہ رہائشی مکان ضبط کرلیاجو راوت پورہ، باغات برزلہ کے توقیر احمد میر کا ہے۔ضلع شوپیاں کے زینہ پورہ علاقے میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ میں بھارتی فوج کا ایک ہیڈ کانسٹیبل سریندر سنگھ ڈیوٹی کے دوران گرکر ہلاک ہوگیا۔
12 مئی 2026۔۔۔ضلع پونچھ کے کرشنا گھاٹی سیکٹر میںبھارتی فوج نے ایک جھڑپ کے دوران ایک مجاہد کو فائرنگ کرکے شہید کرنے کا دعویٰ کیاہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق نوجوان چوہدری محمد شفیع کے صاحبزادے عامرساکن ہجیرہ گزشتہ دو روز سے لاپتہ تھا اور اہل خانہ مسلسل اس کی تلاش میں مصروف تھے، تاہم بعد ازاں بھارتی میڈیا پر اسے ’’دہشتگرد‘‘قرار دیتے ہوئے خبریں نشر کی گئیں۔
13 مئی 2026 ۔۔۔ضلع کشتواڑضلع کے علاقے چترو علاقے میں تلاشی مہم کے دوران بھارتی پولیس نے ایک استادمشکور احمدسمیت دو دیگر افراد کو کالے قانون ”یو اے پی اے ‘‘کے تحت گرفتار کر لیا۔پولیس نے معلم کی گرفتار ی کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔ گرمائی دارلحکومت سری نگرکے حبہ کدل علاقے میں بھارتی پولیس کا ایک اہلکار ویرجی کول کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا۔بھارتی پولیس نے تلاشی کے دوران شالیمار سرینگر میں ایک نوجوان ارباز علی بٹ کو گرفتارکرلیا۔
14 مئی 2026 ۔۔۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی انتظامیہ کی طرف سے انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں ضلع کولگام کے علاقے چھانی گام میں ایک کشمیری کی تین دکانیں مسمار کردیں۔ یاد رہےانسداد منشیات کی اس نام نہاد مہم کے تحت اب تک بیسیوں کشمیریوں کے گھراور دیگر جائیدادیں بھارتی انتظامیہ ضبط اور مسمار کی جاچکی ہیں۔ تحریک حریت کے سینئررہنما اور ماہر تعلیم ولی محمد شاہ ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور قصبے میں انتقال کر گئے ۔مرحوم ولی محمد شاہ جماعت اسلامی جموں کشمیر کے رکن بھی تھے اور وہ طویل علالت کے بعد قصبے کے علاقے سیلو میں اپنی رہائش گاہ پرا نتقال کر گئے۔ وہ معروف کشمیری حریت قائد سید علی گیلانی شہید کے قریبی ساتھی تھے۔ضلع کے علاقے سوپور کی نیو کالونی کے رہائشی ماجد احمد صوفی کی ضلع بانڈی پورہ کے علاقے کہنوسا میں واقع 10 مرلہ اراضی کالے قانون یو اے پی اے کے تحت ضبط کی گئی ۔ماجد احمد صوفی نے بھارتی مظالم سے تنگ آکرمجبوراََآزاد جموں وکشمیر ہجرت کی تھی اور وہ اس وقت وہاں ہی مقیم ہے۔
15 مئی 2026 ۔۔۔۔ضلع بارہمولہ اور بڈگام علاقے میں بھارتی انتظامیہ نے کشمیریوں کو گھروں ،زمینوں اور دیگر جائیدادوں سے محروم کرنے کی اپنی استعماری پالیسی جاری رکھتے ہوئے مزید تین کشمیریوںغلام محمد بٹ ، غلام نبی وانی اور محمد ہاشم رینا کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔ ضبط کی گئی جائیدادمیں 16مرلہ اراضی اور 2رہائشی مکان شامل ہیں۔