یومِ شہدائےکشمیر۔۔۔۔ قربانیوں کا تسلسل اور آزادی کا عہد
غلام محمد پال
کشمیر کی تاریخ قربانیوں، استقامت اور مزاحمت کی ایسی داستان ہے جس کی مثال دنیا کی کم ہی تحریکوں میں ملتی ہے۔ گزشتہ نو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران کشمیری عوام نے اپنی جانوں، مال، عزتوں اور گھروں کی بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں، مگر آزادی کی آرزو ان کے دلوں سے محو نہیں ہوئی۔ دنیا کے سیاسی نقشے میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں، طاقتور سلطنتیں بکھر گئیں، نظریاتی دیواریں گر گئیں اور عسکری قوت کے دعوے خاک میں مل گئے، لیکن کشمیری قوم کا حقِ خودارادیت آج بھی ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔

ہر سال 13 جولائی کو دنیا بھر میں کشمیری یومِ شہدائے کشمیر مناتے ہیں۔ یہ دن محض ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں بلکہ آزادی کے سفر میں دی گئی قربانیوں کے ساتھ تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ اس موقع پر کشمیری عوام اس امر کا اعادہ کرتے ہیں کہ شہداء کے لہو سے وابستہ امانت کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان قربانیوں کو سیاسی مفادات، اقتدار یا ذاتی مصلحتوں کی نذر ہونے دیا جائے گا۔
شہداء کے مشن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی جماعت، تنظیم، علاقے یا شخصیت تک محدود نہیں۔ ان کا مقصد ایک ایسی منزل کا حصول تھا جس کے سامنے ذاتی اختلافات، گروہی وابستگیاں اور وقتی مفادات کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ افسوس کہ مختلف ادوار میں بعض عناصر نے شہداء کے نام کو استعمال تو کیا لیکن ان کے مقصد سے وفاداری کا حق ادا نہ کرسکے۔ اگر واقعی شہداء کی قربانیوں کا احترام مطلوب ہو تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ غلامی اور جبر کے ہر نظام کو مسترد کرتے ہوئے آزادی کے مقصد کو مقدم رکھا جائے۔
13 جولائی 1931ء کشمیر کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس روز سرینگر کی سنٹرل جیل کے باہر ڈوگرہ حکومت کی فائرنگ سے 22 کشمیری مسلمان شہید ہوگئے۔ یہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا تھا بلکہ اس کے پس منظر میں برسوں پر محیط سیاسی، معاشی اور مذہبی ناانصافیاں کارفرما تھیں۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، مذہبی معاملات میں مداخلت اور بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی نے عوامی بے چینی کو شدید تر کردیا تھا۔اسی سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر جموں میں پیش آنے والے واقعات اور بعد ازاں قرآنِ مجید کی بے حرمتی کے ایک واقعے نے مسلمانوں کے جذبات کو مزید مجروح کیا۔ احتجاجی اجتماعات اور عوامی جلسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ جون 1931ء میں خانقاہِ معلیٰ سرینگر میں منعقد ہونے والے ایک عظیم الشان اجتماع نے کشمیری مسلمانوں کے سیاسی شعور کو نئی جہت عطا کی۔ اسی اجتماع میں ایک نوجوان عبدالقادر نے پرجوش خطاب کرتے ہوئے مظلوم عوام کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی دعوت دی۔

عبدالقادر کی گرفتاری نے عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ کردیا۔ جب ان کا مقدمہ سنٹرل جیل سرینگر میں چلایا جانے لگا تو ہزاروں لوگ جیل کے باہر جمع ہوگئے۔ 13 جولائی کو نمازِ ظہر کا وقت آیا تو ایک نوجوان اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا، مگر اسے گولی مار دی گئی۔ اذان مکمل کرنے کے لیے دوسرا آگے بڑھا، وہ بھی شہید کردیا گیا۔ پھر تیسرا، چوتھا اور یوں ایک ایک کرکے بائیس نوجوان جامِ شہادت نوش کرتے گئے، مگر اذان کا سلسلہ نہ رکا۔ تاریخ کے صفحات میں یہ منظر ایمان، جرأت اور قربانی کی لازوال مثال کے طور پر محفوظ ہوگیا۔
اس سانحے نے کشمیر کے سیاسی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ظلم کے خلاف عوامی مزاحمت نے ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ کشمیریوں کے دکھ درد اور ان پر ہونے والے مظالم عالمی سطح پر زیر بحث آنے لگے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے آزادی کی جدوجہد کو نئی زندگی بخشی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک واضح راستہ متعین کردیا۔1931ء سے لے کر آج تک قربانیوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ لاکھوں افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں، ہزاروں معذوری اور اسیری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے، بے شمار خاندان ہجرت اور دربدری کے کرب سے گزرے، جبکہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن کی قبریں آج تک نامعلوم ہیں۔ برف پوش پہاڑوں، ویران جنگلوں اور دور افتادہ علاقوں میں دفن ہونے والے یہ گمنام شہداء بھی اسی عظیم داستان کا حصہ ہیں۔
یومِ شہداء کا اصل پیغام محض تقریبات، جلسوں، جلوسوں اور نعروں تک محدود نہیں۔ یہ دن خود احتسابی کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران تحریک نے کیا کامیابیاں حاصل کیں، کن مشکلات کا سامنا کیا اور مستقبل کے لیے کون سی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔ اختلافات اور باہمی کشمکش کے بجائے اتحاد، بصیرت، تدبر اور اجتماعی سوچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تحریکوں کی کامیابی صرف جذبے سے نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی، مستقل مزاجی اور مشترکہ جدوجہد سے حاصل ہوتی ہے۔ سیاسی، سفارتی، ابلاغی اور دیگر تمام محاذوں پر مربوط اور مؤثر کردار ادا کیے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے اور مستقبل کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل لائحۂ عمل ترتیب دیا جائے۔یومِ شہدائے کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی عمر کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، آخرکار اسے شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہداء کا خون آنے والی نسلوں کے لیے امید، حوصلے اور استقامت کا سرچشمہ بنتا ہے۔ آج بھی کشمیر کے شہداء کا پیغام یہی ہے کہ آزادی، عزت اور حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے اور اس مقصد کے حصول تک ہر ممکن کوشش بروئے کار لائی جائے۔
شہداء کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ان کے مشن کو زندہ رکھا جائے، اختلافات کو پسِ پشت ڈالاجائے، اجتماعی مفاد کو ترجیح دی جائے اور دیانت، اخلاص اور عزم کے ساتھ اس جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیری عوام اپنی قربانیوں کا ثمر پائیں گے اور تاریخ ایک بار پھر ثابت کرے گی کہ حق اور انصاف کی جدوجہد کو ہمیشہ دوام حاصل ہوتا ہے۔







