بارہ نشستوں کا المیہ

بارہ نشستوں کا المیہ: اقتدار کی بساط، عوام کا کرب اور کشمیر کا مستقبل

عوامی بیداری، سیاسی اشرافیہ اور مہاجرین نشستوں کی داستان
خون، سوال اور خاموش ایوان: آزاد کشمیر کے نئے عہد کی دردناک داستان
کشمیر کی سسکتی وادیوں سے اقتدار کے ایوانوں تک: ایک نامکمل مکالمے کی کہانی
آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک بے رحم محاسبہ، کیا مسئلہ اقتدار کا ہے یا عوامی حق کا؟

سید عمر اویس گردیزی

تاریخ کے اوراق پر کچھ سوال ایسے ثبت ہو جاتے ہیں جن کے جوابات محض آئینی دفعات، سیاسی تقاریر، انتخابی نعروں یا اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی خفیہ سرگوشیوں سے برآمد نہیں ہوتے، بلکہ ان کے حل کے لیے قوموں کو اپنے اجتماعی ضمیر کے دروازے کھولنے پڑتے ہیں۔ وہ سوال صدیوں کے درد، نسلوں کی محرومیوں اور وقت کے بے رحم احتساب کے بعد قوموں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ آخر اقتدار کا اصل وارث کون ہے؟ وہ چند خاندان، چند جماعتیں اور چند مراعات یافتہ حلقے جو اقتدار کے ایوانوں میں نسل در نسل اپنی موجودگی برقرار رکھتے ہیں، یا وہ عوام جن کے لہو، پسینے اور قربانیوں سے ریاستوں کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں؟ آزاد جموں و کشمیر کی دھرتی آج ایک ایسے ہی نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف عوامی حقوق، معاشی انصاف اور نظام کی اصلاح کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب سیاسی مفادات، تاریخی روایات، آئینی پیچیدگیاں اور اقتدار کے قدیم فارمولے اپنی بقا کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جسے تحریکِ آزادی کشمیر کا بیس کیمپ کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا بیس کیمپ جس کا مقصد صرف جغرافیائی وجود کا تحفظ نہیں بلکہ ایک سیاسی، اخلاقی اور انسانی جدوجہد کی نمائندگی بھی تھا۔ لیکن وقت کی گرد نے اس خواب پر کئی سوالات ثبت کر دیے۔

وہ عوام جو اپنے حکمرانوں سے تعلیم، صحت، روزگار، جدید انفراسٹرکچر، مضبوط اداروں اور بہتر معیارِ زندگی کی امید رکھتے تھے، وہ بارہا یہ سوال کرتے دکھائی دیے کہ آخر ایک ایسی ریاست جس کا سیاسی تشخص ایک عظیم قومی مقدمے سے جڑا ہے، وہاں کے ہسپتال ادویات اور آلات سے محروم کیوں ہیں؟ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے بے روزگاری کے اندھیروں میں کیوں بھٹک رہے ہیں؟ صنعت، تجارت، ٹیکنالوجی اور جدید ترقی کے دروازے اب تک مکمل طور پر کیوں نہیں کھل سکے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکمران طبقات کی مراعات کا قافلہ عوام کی مشکلات کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے کیوں بڑھتا چلا گیا؟ اسی پس منظر میں چند سال قبل ایک ایسی عوامی بیداری نے جنم لیا جس نے روایتی سیاسی حدود کو عبور کر لیا۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ظہور کسی روایتی انتخابی سیاست کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ بازاروں کی دھڑکنوں، عام شہریوں کی بے بسی، نوجوانوں کی بے چینی اور محروم طبقات کے دلوں میں جمع ہونے والے سوالات کا اظہار تھا۔ اس تحریک نے ابتدا میں بجلی کے نرخوں، آٹے کی قیمتوں اور عوامی بنیادی ضروریات کے مسائل کو مرکزِ بحث بنایا۔ جب عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو بعض معاشی مطالبات تسلیم کرنا پڑے اور عام شہریوں کو اس کے ثمرات ملے، تو اس نے یہ احساس پیدا کیا کہ اجتماعی آواز اگر منظم ہو تو اقتدار کے بلند ترین دروازوں تک بھی اپنی بازگشت پہنچا سکتی ہے۔ لیکن ہر کامیاب تحریک ایک نئے سوال کو جنم دیتی ہے۔ جب روٹی، آٹا اور بجلی کے مسائل پر جزوی کامیابی حاصل ہوئی تو گفتگو ریاستی نظام کے ان پہلوؤں تک پہنچ گئی جنہیں برسوں سے سیاسی حساسیت کی وجہ سے چیلنج نہیں کیا جاتا تھا۔ انہی میں سب سے اہم آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین جموں و کشمیر کی بارہ مخصوص نشستوں کا معاملہ تھا، جن میں چھ نشستیں جموں اور چھ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی نمائندگی کے لیے مختص ہیں۔ یہ نشستیں تاریخ کے ایک المناک باب کی یادگار ہیں، جب 1947ء کی تقسیم اور کشمیر کے تنازعے نے لاکھوں انسانوں کو اپنے گھروں سے جدا کر دیا۔ ان نشستوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہ کشمیری خاندان جو ریاست کے ان علاقوں سے بے دخل ہوئے، ان کی سیاسی آواز ختم نہ ہو اور مسئلہ کشمیر کے حل تک ان کی نمائندگی قائم رہے۔ مگر تاریخ کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ کوئی بھی نظام ہمیشہ سوالات سے بالاتر نہیں رہ سکتا۔ اگر کسی انتظام کے بارے میں عوام کے ایک بڑے حصے میں یہ احساس جنم لے کہ وہ اپنے اصل مقاصد سے دور ہو چکا ہے، تو اس پر بحث کرنا بغاوت نہیں بلکہ جمہوری معاشروں کی زندگی کی علامت ہے۔

اس مقام پر سب سے اہم اور حساس سوال یہی جنم لیتا ہے کہ کیا مہاجرین جموں و کشمیر کی بارہ نشستوں کی موجودہ شکل کا خاتمہ یا اس میں اصلاح واقعی تحریکِ آزادی کشمیر کو نقصان پہنچائے گی، یا پھر اس معاملے کو ایک نئے آئینی، قانونی اور عوامی اتفاقِ رائے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال محض سیاسی نہیں بلکہ تاریخ، شناخت، نمائندگی اور ریاستی مستقبل سے جڑا ہوا سوال ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس سوال کو سنجیدہ آئینی مباحثے کے بجائے اکثر سیاسی نعروں، الزام تراشیوں اور جذباتی بیانیوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ کسی بھی ریاست کا سب سے بڑا المیہ یہی ہوتا ہے کہ جب سوال پوچھنے والوں کو دشمن قرار دے دیا جائے اور جواب دینے والوں کے پاس دلیل کے بجائے صرف الزام باقی رہ جائے۔ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی داستان یقیناً تاریخ کے ان المناک ابواب میں شامل ہے جن کے اوراق آج بھی خون، جدائی اور محرومی کی سیاہی سے رنگے ہوئے ہیں۔ 1947ء کے واقعات نے بے شمار خاندانوں کو اپنی آبائی زمینوں، اپنے گھروں، اپنے بزرگوں کی قبروں اور اپنی تہذیبی شناخت سے جدا کر دیا۔ ان خاندانوں کے درد، قربانی اور تاریخی وابستگی سے انکار نہ اخلاقی طور پر ممکن ہے اور نہ ہی تاریخی طور پر درست۔ مگر یہاں دوسرا سوال یہ ہے کہ سات سے زائد دہائیاں گزرنے کے بعد وہ نظام جو مہاجرین کی نمائندگی کے نام پر قائم کیا گیا تھا، کیا آج بھی اسی مقصد کو پورا کر رہا ہے؟ کیا وہ بارہ نمائندے، جو مختلف ادوار میں اسمبلیوں کا حصہ بنے، انہوں نے مہاجرین کی اجتماعی زندگی میں کوئی ایسی بنیادی تبدیلی پیدا کی جسے تاریخ ان کی کارکردگی کا روشن باب قرار دے سکے؟ یہ سوال کسی فرد یا خاندان کی توہین نہیں بلکہ ایک عوامی احتساب کا سوال ہے۔ اگر ان نشستوں کا بنیادی مقصد مہاجرین کے حقوق کا تحفظ، ان کی آبادکاری، ان کی معاشی بحالی، ان کی آئندہ نسلوں کی تعلیم، صحت اور روزگار کا بندوبست اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے انسانی پہلو کو اجاگر کرنا تھا تو پھر اس مقصد کے حصول کا غیر جانبدار جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی 1990ء کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آنے والے بہت سے خاندان مہاجر کیمپوں اور محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی نئی نسل بہتر تعلیم، معیاری صحت، روزگار اور مستقل ترقی کے مواقع کی خواہاں ہے۔ اگر مہاجرین کی نمائندگی کا نظام موجود ہے تو سب سے پہلے اس کا رخ انہی حقیقی انسانی مسائل کی طرف ہونا چاہیے۔ دوسری جانب ایکشن کمیٹی اور اس سے متفق حلقے ایک قانونی سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ ریاستی شناخت اور اسٹیٹ سبجیکٹ کے حوالے سے تاریخی قوانین کی روشنی میں بعض افراد کی مہاجر حیثیت اور نمائندگی کے معیار کا دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ یہ ایک پیچیدہ قانونی معاملہ ہے جس پر حتمی رائے سیاسی جلسوں، سوشل میڈیا کے بیانات یا عوامی جذبات کے بجائے مستند تاریخی ریکارڈ، آئینی تشریح اور ماہرینِ قانون کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر کی جمہوری روایات میں آئینی ڈھانچے جامد نہیں رہتے۔ وقت کے ساتھ ان میں اصلاحات کی جاتی ہیں۔ اگر کسی نظام میں کمزوریاں، سیاسی استحصال یا عوامی عدم اعتماد پیدا ہو جائے تو اس کے خاتمے، تبدیلی یا اصلاح کے لیے آئینی راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔ یہاں ایک متوازن راستہ سامنے آ سکتا ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی کو مکمل طور پر سیاسی طاقت کے کھیل کا حصہ بنانے کے بجائے اس کی نوعیت، تعداد، انتخابی طریقۂ کار اور ذمہ داریوں پر ازسرِ نو غور کیا جائے۔ مثال کے طور پر ایسے نمائندوں کا انتخاب یقینی بنایا جا سکتا ہے جو حقیقی مہاجر کمیونٹی کے مسائل، ان کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے عالمی انسانی پہلو کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کا عملی تجربہ رکھتے ہوں۔ ایک تجویز یہ بھی زیرِ غور آ سکتی ہے کہ ان نشستوں کے حامل ارکان کے اختیارات اور مراعات کو عام سیاسی مفادات سے الگ کرکے انہیں مخصوص فلاحی، سفارتی اور مہاجر امور تک محدود کیا جائے تاکہ ان نشستوں کا اصل مقصد بحال ہو سکے۔ اسی طرح ایک آزاد آئینی کمیشن، جس میں آئینی ماہرین، ججز، تاریخ دان، سیاسی جماعتیں، مہاجرین کے حقیقی نمائندے اور سول سوسائٹی شامل ہو، اس پورے نظام کا جامع جائزہ لے سکتا ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما خود بھی ان نشستوں کے سیاسی کردار پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ اس لیے اگر آج عوامی سطح پر یہ بحث موجود ہے تو اسے محض ایک جماعت یا ایک گروہ کی ضد قرار دے کر نظر انداز کرنا شاید مسئلے کو مزید پیچیدہ بنائے گا۔

کشمیر اور پاکستان کے عوام کے درمیان رشتہ صرف سیاست کا رشتہ نہیں، بلکہ قربانیوں، تاریخ، ثقافت اور کئی دہائیوں کے جذباتی تعلق کا رشتہ بھی ہے۔ سیاسی اختلافات کو عوامی نفرت میں تبدیل کرنا کسی بھی سنجیدہ قیادت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک خطرناک کھیل ثابت ہو سکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی قیادت، عوامی ایکشن کمیٹی، سیاسی جماعتیں، آئینی ماہرین اور مہاجرین کے حقیقی نمائندے ایک میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کو انا کی جنگ کے بجائے مستقبل کی نسلوں کے مقدمے کے طور پر دیکھیں۔ کوئی بھی قانون انسانوں کے لیے بنایا جاتا ہے، انسان قانون کے لیے نہیں۔ اگر بارہ نشستوں کی موجودہ شکل عوامی اعتماد کھو چکی ہے تو اصلاحات کا دروازہ کھلا ہونا چاہیے، اور اگر ان نشستوں کا تاریخی و آئینی وجود کسی قومی ضرورت سے وابستہ ہے تو اسے جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر اور شفاف بنایا جانا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک اور نسل کو نفرت، تصادم اور سیاسی ضد کے اندھیروں میں دھکیلنے کے بجائے ایک ایسا راستہ تلاش کیا جائے جہاں مہاجر کا درد بھی محفوظ رہے، ریاستی عوام کا حق بھی تسلیم ہو، تحریکِ آزادی کشمیر کی تاریخی حساسیت بھی برقرار رہے اور جمہوری نظام بھی عوام کے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سیاست کو اقتدار کی شطرنج سے نکل کر قوم کے اجتماعی ضمیر کی عدالت میں حاضر ہونا ہوگا، کیونکہ تاریخ کبھی صرف یہ نہیں پوچھتی کہ کس نے حکومت کی تھی؛ تاریخ یہ بھی پوچھتی ہے کہ جب قوم ایک نازک موڑ پر کھڑی تھی تو کس نے آگ بجھائی اور کس نے اس پر مزید تیل ڈالا۔ ایک جمہوری معاشرے کی خوبصورتی بھی یہی ہے کہ اختلاف کو تصادم نہیں بلکہ مذاکرات کی میز تک لایا جائے۔ مگر جب معاہدوں پر عملدرآمد میں تاخیر، سیاسی تبدیلیاں اور باہمی عدم اعتماد بڑھتا گیا تو وہی امیدیں دوبارہ شکوک و شبہات میں تبدیل ہوتی گئیں۔ جون 2026ء کے بحران نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا۔ احتجاجی کال سے قبل گرفتاریاں، چھاپے، مواصلاتی پابندیاں اور پھر احتجاجی اجتماعات کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں جذبات دلیل پر غالب آنے لگے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، چاہے وہ عام شہریوں کا ہو یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا، کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ایک المناک سانحہ ہوتا ہے۔ ہر وہ گھر جس کا چراغ بجھتا ہے، اس کا دکھ سیاسی جماعتوں کی کامیابی یا ناکامی سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا یہ صورتحال اس نہج تک پہنچنی چاہیے تھی؟ کیا وہ مسائل جو مذاکرات، آئینی طریقہ کار اور سیاسی بصیرت کے ذریعے حل کیے جا سکتے تھے، انہیں سڑکوں پر خون اور آنسوؤں کے سپرد کرنا ضروری تھا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت وقتی طور پر راستے روک سکتی ہے، لیکن سوالوں کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں کر سکتی۔ اس تمام بحران کا ایک افسوس ناک پہلو وہ بیانیہ بھی ہے جس میں سیاسی اختلاف کو بعض اوقات حب الوطنی اور غداری کے ترازو میں تولنے کی کوشش کی گئی۔ کسی بھی عوامی تحریک کے مطالبات اور طریقۂ کار پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن بغیر واضح شواہد کے سنگین الزامات یا ایسے بیانات جو معاشرتی تقسیم کو بڑھائیں، پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

عوامی قیادت کو بھی یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ عوامی غصے کو ایسی سمت نہ دی جائے جہاں ریاستی ادارے اور عوام ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو جائیں۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ کون سیاسی جنگ جیتتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر کا مستقبل ہارتا نہ جائے۔ ایک ایسا خطہ جسے دنیا کے سامنے کشمیری عوام کے سیاسی مقدمے کی نمائندگی کرنی ہے، اگر وہ خود اندرونی انتشار، نفرت، الزام تراشی اور مسلسل تصادم کا شکار ہو جائے تو اس کا نقصان صرف حکومت یا اپوزیشن کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔ مہاجرین نشستوں کے معاملے میں بھی شاید درمیانی راستہ ہی سب سے زیادہ دانشمندانہ راستہ ہو سکتا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی غیر جانبدار آئینی کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے جو تاریخی دستاویزات، آئینی تقاضوں، مہاجرین کے حقوق، عوامی خدشات اور ریاستی سیاسی استحکام کو سامنے رکھ کر سفارشات مرتب کرے۔ نشستوں کے خاتمے، تعداد میں تبدیلی، انتخابی طریقہ کار میں اصلاح، حقیقی متاثرہ مہاجرین کی براہِ راست نمائندگی، یا ان نشستوں کے کردار کو ازسرِ نو متعین کرنے جیسے تمام امکانات کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔ حقیقی مہاجرین کے مسائل کو بھی سیاست کی دھول میں گم نہیں ہونا چاہیے۔ وہ خاندان جو بے گھری، معاشی مشکلات اور محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، ان کا حق ہے کہ انہیں بہتر تعلیم، معیاری صحت، روزگار اور باعزت زندگی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر مہاجرین کے نام پر کوئی سیاسی ڈھانچہ موجود ہے تو اس کی پہلی ذمہ داری انہی انسانوں کی خدمت ہونی چاہیے جن کے درد کے نام پر یہ نمائندگی قائم کی گئی۔ کشمیر کی سرزمین نے تقسیم کے زخم دیکھے، ہجرتوں کے قافلے دیکھے، قربانیوں کے چراغ جلتے دیکھے اور کئی نسلوں کے خوابوں کو وقت کی گرد میں دفن ہوتے دیکھا۔ شاید اب وقت آ چکا ہے کہ ایک نئی نسل کو نفرت کے ورثے کے بجائے مکالمے کی میراث دی جائے۔ آج بھی وقت گزرا نہیں۔ بند دروازے کھل سکتے ہیں، تلخ بیانات خاموش ہو سکتے ہیں، اور سیاسی انا کے برف زار پگھل سکتے ہیں، بشرطیکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ عوام کی دھڑکن سننے پر آمادہ ہوں اور احتجاج کے میدانوں میں کھڑے لوگ مکالمے کے چراغ بجھنے نہ دیں۔ کیونکہ آخرکار قومیں جنگوں سے نہیں، زخموں کو بھرنے کے ہنر سے زندہ رہتی ہیں۔