”کشمیر فریب زدہ“ایک کتاب ایک المیہ ایک نوحہ
عارف بہار
ْآزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے لاک ڈاؤن کا تیسرا دن ہے۔اس لاک ڈاؤن کی کامیابی میں حکومت نے اپنا حصہ یوں ڈالاہے کہ لاکھوں لوگوں کو انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم کر دیا گیاہے ۔آج کے دور میں انٹرنیٹ محض سوشل میڈیا کی وقت گزاری کا نام نہیں رہا بلکہ ایک بڑی تعداد کی روزی روٹی اور تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لئے بنیادی ضرورت کا نام بن گیا ہے۔گزشتہ برس آٹھ دن انٹرنیٹ منقطع رکھ کر بیرون ملک اداروں میں کام کرنے والے سیکڑوں افراد کو بے روزگار کر دیا گیا تھا۔تحقیق جستجوکے راستوں کے راہی راستے بھٹک کر تڑپ اُٹھے تھے۔کاروباری اداروں اور افراد کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑا تھا اس بار بھی ایسا ہی ہونا یقینی ہے۔لاک ڈاؤن اور انٹرنیٹ سے محرومی کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مجھے کئی احباب کی کتابوں کو تفصیل سے پڑھنے اور ان پر کچھ لکھنے کا موقع ملا۔مظفرآباد اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ کھٹ پھٹ کو سمجھنے کے لئے آزادکشمیر کی تحریک آزادی کے ایک سرگرم کارکن وکیل اور قلم کار سردار مختار خان کی کتاب ”آزادی کا خوب پریشاں“ دوبارہ پڑھی۔جس سے طاقت اور اختیار کے لئے مظفرآباد اور اسلام آباد کی رواں کھینچا تانی کا پس منظر بڑی حد تک واضح ہوا۔دوسری اہم کتاب ہمدمِ دیرینہ شیخ محمد امین کی حال ہی میں منظر عام پر آنے والی کتاب ” کشمیر فریب زدہ،تحریک آزادی ماضی حال اور مستقبل” تھی۔

شیخ محمد امین کا تعلق ہندواڑہ مقبوضہ کشمیر سے ہے اور وہ کشمیر کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو اسی کی دہائی کے اواخر میں شروع ہونے والی تحریک کے نتیجے میں پہلے ذہنی اور پھر عملی طور پرمتاثرہوئی اور اب تک”متاثر“ہی چلی آرہی ہے۔یہ بلند فکر نسل تھی جو گردوپیش کے حالات واقعات سے متاثر ہو کر اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت سے جا ٹکرائی۔اس نسل نے اپنے عزم اور جوش،جذبات کو سمجھ کر شاید بہتر فیصلہ کیا تھا مگر وہ اپنے دوستوں کے حوصلوں،ساتھ چلنے اور ساتھ دینے کی صلاحیت کا درست اندازہ نہ لگا سکی۔ان میں جو اس حقیقت کا بہتر ادراک کر سکا ابتدائے سفر میں ہی اپنے راہیں جد کر تا چلا گیا۔وقت کی طویل او رپرپیچ راہوں پر چلتے ہوئے یہ نسل منزل کے قریب پہنچتی رہی اور ہر بار اس شعر کی تصویر بنتی رہی۔
کوئی منزل پہ پہنچتا کیسے
راہ میں راہنما بیٹھے تھے

یوں معاونین کے دور تک اور دیر تک نہ چل پانے کی روش،دباؤ نہ سہہ سکنے کی عادت اور شیخ محمد امین کی نسل کی بلند پروازی اور جوش جنوں میں کوئی نقطہ اتصال نہ بن سکا اور کشمیر کہیں اور چلا گیا اور اس کے خواب دیکھنے اور بننے والی نسل کہیں دور رہ گئی۔ شیخ محمد امین کشمیر کی اعلیٰ تعلیم یافتہ نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔کشمیر فریب خوردہ بھی خون دل میں انگلیاں ڈبو کر لکھی جانے والی کاوش ہے۔کئی کتابیں ان کی اسی ادا اورعادت کا ثبوت ہیں۔شیخ محمد امین خوف اور مصلحت سے بے نیاز ہو کر لکھتے ہیں اس کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ایک دیانت دار امانت دار انسان ہیں گویا کہ اسم بامسمیٰ۔نہ ان کا تعاقب کوئی فائل کرتی ہے اور نہ حرص طمع اور کشمیر کو کاروبار بنانے کی طلب ان کی کمزور ی بن پاتی ہے۔ایسے ہی بے غرض اور بے ریا لوگ قلندرانہ ادا وں کے ساتھ نعرہ مستانہ بلند کرتے ہیں۔ شیخ محمد امین کی کتاب حقیقت میں ان کا نعرہ مستانہ ہے جس میں انہوں نے کشمیر کی تحریک کشمیریوں کے اعلیٰ جذبات کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو بلا کم وکاست بیان کیا ہے۔میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا اور جنرل پرویز مشرف امریکی دباؤ میں بھارت کے آگے بچھے جا رہے تھے۔وہ کشمیر پر عوامی اور قومی موقف کی ریڈ لائنز کو توڑ رہے تھے۔اس ماحول میں کئی نئے محبوب تو کئی نئے معتوب اُبھر رہے تھے۔

شیخ صاحب کے اور میرے خیالات چونکہ ملتے جلتے تھے اس لئے ایک روز انہوں نے مجھے کہا کہ ہم قلمی محاذ پر اس کشمیر پالیسی کی مخالفت اور مزاحمت کرتے ہیں اور کشمیر کے منظر پر معتوب قرار پانے والوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔میں نے یہ دعوت قبول کی اور پندرہ روزہ ”صدائے حریت“کے ذریعے ہم نے جنرل پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی کا پوسٹ مارٹم شروع کیا۔یہاں تک کہ جنرل مشرف کے کارندے دائیں بائیں سے اس آواز کو دبانے کی ترکیبیں پوچھتے رہے۔ایک کارندہ کشمیر میڈیا سروس کے انچارج مرحوم شیخ تجمل السلام کے پاس بھی طریقہ پوچھنے پہنچ گیا۔شیخ تجمل السلام نے کئی برس بعد ایک اتفاقی ملاقات میں اس کا احوال بیان کیا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شیخ محمد امین خوف اورمصلحت کو ٹھکرا کر بہادروں کی طرح زندہ رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ان کی کتاب کئی ابواب پر مشتمل ہے۔جن میں سب سے اہم باب زند ہ کرداروں سے متعلق ہے۔مرے ہوئے کرداروں کولعن طعن ہر کوئی کرتا ہے مگر زندوں کے مداح سرائی کرکے لمحہ موجود کو بخیر وعافیت گزارا جانا آج کی رسم وریت ہے۔شیخ امین اس رسم وریت ا س وقت بغاوت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جب وہ کتاب کے ایک باب ”ماضی بھولو ڈاکٹرائن کے تحریک آزادی کشمیر پر اثرات“ کے عنوان سے جنرل قمرجاوید باجوہ کے کشمیر ڈاکٹرائن کا تذکرہ کرتے ہیں۔جنرل باجوہ کے ڈاکٹرائن کاوجود خوف لالچ مصلحت دباؤ اور بزدلی کے خمیر سے اُٹھا تھا۔اسی لئے وہ تاریخ کے اہم ترین لمحوں میں جب سقوط کشمیر ہو رہا تھا کوئی جرات مندانہ ردعمل دکھانے سے دانستہ محروم رہے بلکہ زبانی کلامی ردعمل دکھانے والے سویلین حکمران سے بھی ناراض ہوگئے۔

نتیجتاََپاکستان کے حکمران اتنا علامتی ردعمل بھی نہ دکھا سکے جو اندرا عبداللہ ایکارڈ کے موقع پر ذوالفقار علی بھٹونے ہڑتال کے ذریعے دکھایا تھا۔حالانکہ پانچ اگست 2019 کا پاکستان 1975کے پاکستان سے بدرجہا بہتر پوزیشن میں تھا۔1975کے پاکستان کے برعکس 2019 کا پاکستان ایک ایٹمی طاقت،ایک بڑی فوی اسٹیبلشمنٹ کا حامل،جدید ائر فورس اورمیزائلوں سے لیس تھا مگر وہ ردعمل دکھانے سے قاصر رہا 1975کی ہڑتال نے کشمیریوں کو پیغام دیا تھا کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑ ا ہے اور اسی لئے کشمیری اس کے بعد نئی ادا اور شان سے کھڑے ہوتے چلے گئے۔2019کی خاموشی اور سکوت نے کشمیر یوں کو پیغام دیا کہ پاکستان اب انہیں حالات کے دھارے پر چھوڑ چکا ہے اس کا نتیجہ گزشتہ سات سال سے دیکھا جا رہا ہے جب کشمیر میں جذبات کی چنگاری بھڑکنے کے امکانات معدوم سے معدوم تر ہو رہے ہیں۔

کتاب کے اس باب میں شیخ محمد امین نے عالمی اور قومی میڈیا کی رپورٹس کے حوالے سے لکھا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن ایک تباہ کن پالیسی تھی۔اس مصلحت پسندانہ اور بذدلانہ ڈاکٹرائن کا تعارف خود باجوہ نے مارچ 2021میں ایک تقریر کے دورا ن یوں کیا تھا ”ہم محسوس کرتے ہیں کہ ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے“۔یہ کشمیر کو بوجھ سمجھ کر پٹخ ڈالنے کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش تھی۔کتاب میں اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعظم ا ٓزادکشمیر راجا فاروق حیدر خان کے مختلف اوقات میں کئے گئے تبصرے شامل ہیں جن میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں کے پاس اس وقت کے بہت تلخ راز ہیں مگر دونوں قومی رازوں کے حوالے سے اُٹھائے گئے حلف کی پاسداری میں حقائق بیان کرنے سے قاصر ہیں شیخ محمد امین کے مطابق معروف کشمیری نژاد صحافی حامد میر نے ایک موقع پر انکشاف کیا تھا کہ فاروق حیدر نے انہیں بتایا ہے کہ جنرل باجوہ نے دون پہلے انہیں مطلع کیا تھا کہ بھارت کشمیر کی خصوصی شناخت ختم کرنے والا ہے جس پر فاروق حیدر نے کہا پاکستان کو بھارت پر حملہ کر دینا چاہئے باجوہ نے جواب دیا کہ پاکستان بھارت پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ حامد میر کے مطابق انہوں نے فاروق حیدر سے درخواست کی کہ وہ یہ باتیں ان کے شو میں آن دی ریکارڈ کریں جس پر فاروق حیدر خان نے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کی کہ یہ ریاستی راز کے زمرے میں آتا ہے اور وہ اس کی تفصیلات بیان نہیں کر سکتے۔

شیخ امین لکھتے ہیں اسی طرح عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے بعد اخبارنویسوں کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ان کے پاس اس سے زیادہ معلومات ہیں جو حامد میر نے بیان کی ہیں چونکہ یہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے اس لئے وہ ایسی بات نہیں کرنا چاہتے جو بین الاقوامی میڈیا کے لئے خبر بن جائے اس سے پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شیخ صاحب نے یہاں نجم سیٹھی کے فرائیڈے ٹائمز کے ساتھ ساتھ حامد میر،نسیم زہرہ پروفیسر خورشید احمد نعیمہ احمد مہجور سمیت دوسری کئی شخصیات کی تحریروں اور عمران خان،ڈاکٹر شیریں مزاری سمیت کئی شخصیات کے بیانات کے حوالے دے کر اس ڈاکٹرائن کو کشمیر کے لئے زہر قاتل ثابت کیا ہے۔اس کتاب کا نچوڑ اور حاصل یہی المناک باب ہے جس کے نقصان کا ازالہ شاید مدتوں تک نہ ہو سکے۔







