کشمیر کہانی

ضلع پلوامہ کے علاقے میں مجاہدین اور بھارتی فوج کےدرمیان جھڑپ۔۔۔۔۔کمانڈر ذاکر گنائی شہادت کے مرتبے پرفائز،متعدد بھارتی فوجی اہلکار ہلاک و زخمی
مقبوضہ کشمیرمختلف علاقوں میں بھارتی فوج اور( این آئی اے) کی مل کرظالمامانہ کارروائیاں۔۔۔30مکانات مسمار،درجنوں جائیدادیں ضبط،درجنوں گرفتار

16 جون2026 ۔۔۔۔ ضلع راجوری میںسرحد کے نزدیک نوشہرہ سیکٹر کے علاقے کلال میں بھارتی فوج کے گشت کے دوران ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک (جے سی او) سمیت چار بھارتی فوجی زخمی ہوگئے۔بھارتی فوج نے این آئی اے کے ہمراہ ایک چھاپے کے دوران ضلع سرینگر کی نندریشی کالونی سے تعلق رکھنے والے سکندر فردوس کا تین منزلہ رہائشی مکان ضبط کر لیا۔ اسی طرح کی ایک اور کارروائی میں ضلع کے علاقے کرالہ کھڈ میں غلام حسن بٹ کا ایک منزلہ مکان بھی ضبط کر لیا گیا۔
17 جون 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی “ نے ضلع بارہمولہ کے گاؤں کانس پورہ میں شاہین حمد لون کی 7مرلے سے زائد اراضی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت ضبط کی گئی۔”این آئی اے“ نے شاہین احمد لون کو پہلے ہی ایک جھوٹے مقدے میں گرفتار کر رکھا ہے اور وہ اس وقت نئی دلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ مقبوضہ کشمیرکے جموں علاقے میں بھارتی حکام نےظالمانہ کارروائی کرتے ہوئے انسداد تجاوزات کی آڑ میں30 سے زائد تعمیرات کو مسمار کر کے لوگو ں کوبے گھر کردیاہے۔ بھارتی حکومت کشمیریوںکو معاشی طور پر مفلوک الحال اور انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیرا ہے ۔ ضلع راجوری میں بھارتی فوج نے جو آپریشن 23مئی کو شروع کیا ابھی تک جاری ہے ۔بھارتی فوج کے اس آپریشن میں علاقے میں قائم بدنام زمانہ ملیشیا ویلج ڈیفنٹس گارڈز بھی حصہ لے رہے ہیں۔ آپریشن میں ہیلی کاپٹر، ڈرونز، سراغ رساں کتے میں شامل ہیں۔ بھارتی فوج کا دعوی ٰ ہے کہ وسیع جنگل میں متعدد عسکریت پسند موجود ہیں تاہم 26روز گزرنے کے باوجود قابض فوج انکا سراغ لگانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

18 جون 2026 ۔۔۔ ضلع اسلام آباد کے علاقے بیج بہاڑہ میںبھارتی انتظامیہ نے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک ملازم 51سالہ محمد شفیع ملک کو آزادی پسند تنظیموں کے ساتھ روابط کے الزام میں برطرف کر دیا ہے۔ضلع پونچھ کے علاقے سرنکوٹ میں بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں ایک اہلکار نائیک بی ڈی کے راؤڈیوٹی کے دوران پراسرار حالات میں مردہ پایا گیا ۔
19 جون 2026۔۔۔۔بھارتی پولیس نے ضلع کشتواڑ کے علاقے دچھن میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران محکمہ جنگلات کے ایک ملازم سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ان کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کے لیے ان پر مقامی آزادی پسند کارکنوں کا ساتھ دینے اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کا الزام عائد کیاگیا ہے ۔جبکہ بھارتی فوج نے ضلع شوپیاں کے علاقے پڈسو میں تلاشی آپریشن کے دوران مزید تین افراد کو حراست میں لیا ۔ فوج نے انکے قبضے سے دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
21 جون 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نےانسداد منشیات کی آڑ میں جموں کے تریکوٹہ نگر کی کچی آبادی مراٹھا محلے میں محاصرے اور تلاشی کی ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 9 افرادکو گرفتارکر لیا ہے۔ حکام نے بتایاکہ پولیس ٹیموں نے علاقے میں 200 سے زیادہ گھروں کی تلاشی لی اور سامان کی توڑ پھوڑ کی۔
22 جون 2026 ۔۔۔ضلع جموں کے مضافات میں واقع نگرکوٹا کیمپ میںمیں بھارتی فوج کے ایک لانس نائیک ابھیجیت نندن نے اپنے کمرے میں پھندہ لگا کر خودکشی کر لی۔کشمیر کے ضلع کولگام میں بھارتی فوج کی ایک گاڑی نے ایک بزرگ کشمیری شہری کو ٹکر مار کر شہید کر دیا۔55 سالہ گل محمد کو ضلع کولگام کے علاقے قاضی گنڈ میں بھارتی فوج کی گاڑی نے دانستہ طورپر ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں وہ موقعہ پرہی جاں بحق ہو گئے۔ضلع شوپیاں کے ملحقہ علاقوں میں درجنوں با غ مالکان کو بے دخلی کے نوٹس بھیجے گئے ہیں جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے خاندانوں کی کئی دہائیوں سے زیر کاشت زمین خالی کر دیں۔ نوٹسزسے تقریباً 70 خاندان متاثر ہورہے ہیں جن کا واحد ذریعہ معاش باغبانی ہے۔متاثرین نے اس تباہی کے عمل کو کشمیریوںکی روزی روٹی پر ہندوتوا قوتوں کا براہ راست حملہ اور باغبانی کے شعبے کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے جس سے ہزاروں خاندانوں کا واحد ذریعہ معاش بھی ختم ہوجائے گا۔
24 جون 2026 ۔۔۔ ضلع کولگام میں کے علاقوں یاری پورہ، بیہی باغ اور فریسال سمیت200 سے زائد مقامات جماعت اسلامی کے ارکان کے خلاف بڑے پیمانے پرچھاپوں کے دوران بھارتی فوج نےکالے قانون کے تحت چند کارکنوں کو گرفتارکیا ،مکینوںکو سخت ہراساںکیا اور موبائل فون ،لیب ٹاپ، دینی کتب اورجائیدادوںکی دستاویزات کے علاوہ گھروںمیں موجود رقوم کو بھی قبضے میں لے لیں۔ضلع گاندربل کے علاقے میں پولیس نےپن بجلی کی ایک نہر سے ایک شخص غلام محی الدین ساکن پوشکر کنگن کی لاش برآمد کرلی ہے۔
25 جون 2026 ۔۔۔ضلع کشتواڑ میں ایک ظالمانہ کارروائی کے دوران بھارتی فوج کے 30 سے 40 اہلکاروں نے پولیس اسٹیشن اتھولی میں داخل ہو کردھاوا بولا،توڑپھوڑ کی اورایس ایچ او، ایس ڈی پی او اتھولی وجے کمار بھگت اور ایس پی او سریش کمار سمیت درجنوں اہلکاروںکو تشدد کا نشانہ بناکر انہیں شدید زخمی کردیا۔ سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی نے کالے قانوں کے تحت ضلع بڈگام کے علاقے کنڈورہ، بیرواہ میں میں عمر احمد شیخ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور مکان کے کاغذات، ایک موبائل فون، ایک کمپیوٹر اور کتابیں قبضے میں لے لیں۔ضلع اسلام آباد کے علاقے نوگا م میں ایک مسجد کے امام گلزار احمد راتھر کے گھر پر کالے قانون ”یو اے پی اے“کے تحت چھاپہ مارا گیا اور تلاشی لی گئی ۔ ’ ’سی آئی کے “اہلکاروں نے چھاپوں کے دوران مکانات اور دیگر جائیدادوںکی دستاویزات کے علاوہ کمپیوٹر ، لیب ٹاپ ، موبائل فون اوردیگر ڈیجیٹل آلات ضبط کر لیے۔دارلحکومت سری نگر میں بھارتی فوج کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر یتم لال امرناتھ یاترا کی ڈیوٹی کے دوران پُر اسرار حالات میں ہلاک ہوگیا۔
27 جون 2026۔۔۔ ضلع بارہمولہ کے علاقے سملی والی ڈھوک میں آشا پوسٹ کے قریب ایک پرانا گولہ اچانک پھٹنے سے ایک شہری زبیر احمد بجاد جانبحق ہوگیاہے ۔کاونٹر انٹیلی جنس کشمیرنے وادی کشمیرمیں سرینگر سمیت مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور ریاض احمد بیگ ساکن دلال محلہ مہاراج گنج کے گھر سمیت درجنوں گھروں کی تلاشی کے دوران سامان کی توڑپھوڑ کی ۔
28 جون2026 ۔۔۔ ضلع ریاسی میںقریب ایک سڑک حادثے میں بھارتی فوج کی ایک گاڑی سڑک سے پھسل کر بے قابو ہونے کے بعد الٹ گئی جس میںسوارفوج کے8 اہلکار زخمی ہو گئے۔ ضلع رامبن میں قابض حکام نے ایک اورکشمیری محمد یونس ولد عبدالسلام کا دو منزلہ رہائشی مکان،08 مرلہ زمین اورایک موٹر سائیکل ضبط کرلیا۔ جموں کے نواحی علاقے پلوورا فوجی ہیڈ کوارٹر میں ایک خاتون کانسٹیبل بشنو پریا رائے اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی ہے ۔پولیس کو ان کی لاش چھت کے پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔
بھارتی تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے نے 36سال پرانے ایک جھوٹے مقدمے جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طورپر نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک اور چار دیگر افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی ہے ۔ ایس آئی اے نے کشمیری پنڈت نرس ”سرلا بھٹ ‘‘کے اغوا اور قتل کے جھوٹے مقدمے میں 36برس بعدیاسین ملک اورچار دیگر افرادکو ملزم قرار دیتے ہوئے انکے خلاف سرینگر کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ۔
1 جولائی 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریلوے پولیس نے ہندوؤں کی سالانہ امرناتھ یاترا کے لئے حفاظتی انتظامات کی آڑ میں جموں خطے میں مزید 10 افراد کو حراست میں لیا ہے۔پولیس نے جموں ریلوے سٹیشن سے چھ جبکہ کٹوعہ یلوے سٹیشن سے چار افراد کو گرفتارکرلیاہے۔ریلوے پولیس نے گزشتہ تین دنوں کے دوران مختلف علاقوں سے کل 24 افراد کو حراست میں لیا ہے ۔ کاونٹر انٹیلی جنس کشمیر نے بھارتی فوج کے ساتھ مل کر ایک چھاپے کے دوران سرینگر میں کشمیرایوان صنعت وتجارت کے سابق صدر ڈاکٹر مبین احمد شاہ کی 12 مرلے اراضی ضبط کر لی۔یادرہےسی آئی کے نے ڈاکٹر شاہ پر جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کردیا ہے اور وہ 2019 کے آخر سے اپنے خاندان کے ساتھ ترکی میں پناہ گزین کی زندگی گزار رہے ہیں۔

3 جولائی 2026 ۔۔۔بھارتی پولیس نےضلع پلوامہ کے ترال نگین پورہ کے رہائشی سہیل فاروق لون کو کالے قانون ” پبلک سیفٹی ایکٹ“ کے تحت گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل بھدرواہ منتقل کر دیا ۔ پولیس نے ان کی گرفتار ی کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر عسکریت پسندوںکا سہولت کار ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔جبکہ ایک اور کارروائی میں پولیس نے ضلع پلوامہ کے علاقے پامپور سے منظور احمد میر نامی کشمیری کو گرفتار کیا ۔ ان کی گرفتار ی کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر منشیات فروشی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ضلع راجوری میں کنٹرول لائن پر معمول کے گشت کے دوران بارودی سرنگ کا ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کا ایک جے سی او ہتیشور گوگوئی شدید زخمی ہوگیا۔
4 جولائی 2026 ۔۔۔ضلع ادھم پور میں قائم پولیس اکیڈمی میں ہیڈ کانسٹیبل بشیر انجم ڈیوٹی کے دوران اچانک بے ہوش ہونے کے بعد چل بسا۔ بھارتی پولیس نے ضلع بانڈی پورہ کے حاجن علاقے میں ایک ناکے پرتلاشی کے دوران تین نوجوانوں سیار احمد ملہ ، معراج الدین حجام اور عامر طارق گنائی کو گرفتار کر لیا ۔ پولیس نے نوجوانوں کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر منشیات فروشی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
5 جولائی 2026۔۔۔پولیس نے انسداد منشیات کی آڑ میں ایک چھاپے کے دوران ضلع بارہمولہ کے علاقے یدی پورہ پلہالن میںمشتاق احمد بٹ نامی کشمیری کاایک منزلہ مکان اور چار دکانیں ضبط کر لیں۔جبکہ ضلع ہندواڑہ میں بھارتی پولیس نے اسی مہم کے تحت عنایت اللہ خان کا رہائشی مکان ضبط کر لیا ہے۔
6 جولائی 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں کاونٹر انٹیلی جنس نے دو کتابوں کے مصنفین کے خلاف کالے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جن میں مبینہ طور پر حریت قیادت کی تعریف کی گئی ہے۔ جن کتابوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ان میں” پرسنلٹیزاینڈ لیجنڈز آف جموں وکشمیر“ اور”گریٹ پرسنلٹیز آف جموں وکشمیر“ ‘ شامل ہیں۔پولیس نے جموں کے باہو پلازہ میں ایک پبلشر کے دفتر پر چھاپہ مارا اور دستاویزات اور ڈیجیٹل آلات ضبط کیے ۔
7 جولائی 2026۔۔۔ ضلع شوپیاں کےچھانہ پورہ علاقے میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان ایک معرکہ پیش آیا جو چار دن تک جاری رہا ۔معرکے میں کمانڈر ذاکر گنائی نے آخری گولی تک بھارتی فوج کا مقابلہ کیا اور کئی دن تک زخمی حالت میں انہوں نے دشمن کے ہروار کا بہادری سے مقابلہ کیا اور لڑتے ہوئے جام شہادت کا رتبہ پالیا ۔جھڑپ کے دوران متعدد بھارتی فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ یادرہے کمانڈرذاکر گنائی بھارتی افواج کے خلاف سال 2023ء سے میدانِ کارزار میں سرگرم تھے۔
8 جولائی 2026۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میںامرناتھ یاترا کے لیے تعینات بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس( سی آر پی ایف) کے تین اہلکار بدھ کے روز سرینگر کے علاقے نوگام میں ٹینگن بائی پاس کے قریب ایک نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہو گئے۔بھارتی فوج نے دو مختلف علاقوں میں ایک ڈرائیور سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا۔بھارتی فوج نے ایک تلاشی کارروائی کے دوران سربل کے علاقے میں تین افراد کو گرفتار کیا ، پولیس نے سربل کے علاقے میں ہندو امرناتھ یاترا کے لیے نصب چہرے کی شناخت کے نظام (ایف آر ایس) کے ذریعے گرفتارکرلیاہے۔ جبکہ ایک اور الگ کارروائی کے دوران بھارتی پولیس نے سرینگر کے علاقے نوگام میں ٹینگن بائی پاس کے قریب ایک گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا جس نے تین سی آر پی ایف اہلکاروں کو ٹکر مار کر زخمی کر دیاتھا۔ بھارتی انتظامیہ نےضلع گاندربل میں مزید چار اساتذہ کو معطل کر دیا ہے۔ ان چار سرکاری اساتذہ جن کی شناخت بلال احمد شیخ، عابد محی الدین بٹ، پیر مدثر اور گوہر رشید کلو کے نام سے کی گئی ہےکو ضلع گاندربل میں ہندو امرناتھ یاترا کے سلسلے میں فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے ۔ اس سے قبل قابض حکام نے مقبوضہ علاقے میں محکمہ تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا تھا۔

9جولائی 2026۔۔۔ ضلع کولگام میں بھارتی فوجی کے اہلکاروائی چندرا ریڈی نے اپنے کیمپ میں ڈیوٹی کے دوران اپنی سروس رائفل سے خودکوگولی مار کر خودکشی کرلی ہے۔واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج میں رجحان بڑھ رہا ہے جس کی وجہ طویل عرصے تک تعیناتی، مشکل اور طویل ڈیوٹی اورناکافی چھٹیاں ہیں۔ ضلع بارہ مولہ کے خواجہ باغ علاقے میں بھارتی پولیس نے اشرف گوجری، وسیم علی، تنویر احمد، وسیم حسین میر اور متعدد دیگر افراد کی رہائش گاہوں پرایک کارروائی کے دوران کالے قانون کے ’یو اے پی اے‘کے تحت چھاپےمارے۔چھاپوں کے دوران بھارتی پولیس نے چار موبائل فونز، ایک لیپ ٹاپ، دستاویزات اور دیگرسامان ضبط کر لیا۔
10 جولائی 2026۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی ؒاور کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئررہنما شبیر احمد شاہ سمیت چھ مزاحمتی رہنمائوں کے خلاف ایک پرانے جھوٹے مقدمے میں فرد جرم داخل کر دی ہے، فرد جرم جموں میں قائم این آئی اے کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی ہے۔ فرد جرم میں سید علی گیلانی ؒاور شبیر احمد شاہ کے علاوہ، خواجہ عبدالغنی لون شہید ، جاوید احمد میر ، شکیل احمد بخشی اور محمد یعقو ب وکیل مرحوم کونامزد کیا گیا ہے۔
11 جولائی 2026۔۔۔ ضلع بارہمولہ کے بونیار ، کمل کوٹ ، کریری ، کنزر اور دیگر علاقوں میں بھارتی فوج نے تحریک آزادی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے، مکینوں کو ہراساں کیا اور موبائل فون ، لیب ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل آلات ضبط کر لیے۔بھارتی فوج اور ایجنسیوںکے چھاپوں کامقصد کشمیریوں کو غیر قانونی بھارتی قبضے کو چیلنج کرنے کی پاداش میں انتقامی کارروائیوں کا نشانا بنایاگیا۔
12 جولائی 2026۔۔۔بھارتی فوج کی ایک خاتون کانسٹیبل ونیتا رانی نے جموں کے گڈی گڑھ میں اپنے کیمپ کے فیملی کوارٹرز میں چھت کے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے دو کتابوں میں حریت قیادت کے ناموں کو شامل کرنے پر تین پبلشرز کو گرفتار کر لیا ہے۔
13 جولائی 2026۔۔۔مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں 13 جولائی 1931 کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مزارِ شہداء جانے والے افراد کو روکنے کے لیے بھارتی حکام نے سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ مزارِ شہداء کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔یادرہے کل جماعتی حریت کانفرنس نے 13 جولائی 1931 کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سرینگر کے علاقے نقشبند صاحب میں واقع مزارِ شہداء کی جانب مارچ کی اپیل کی تھی، جہاں 13 جولائی 1931 کو شہید ہونے والے 22 کشمیریوں کو سپردِ خاک کیا گیا تھا۔کشمیر ہائی وے پر ہندو امرناتھ یاتریوں کو لے جانے والی وبسوں کے درمیان تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 18 یاتری زخمی ہوگئے۔
14 جولائی2026۔۔۔ ضلع کولگام میں پولیس نے جاوید احمد ڈار اور پرویز احمد ڈار کی غیر منقولہ جائیداد یں جن میں دو رہائشی مکانات شامل ہیںضبط کرلیے گئے ہیں۔ضلع سانبہ کے علاقے چک منگا میں بیلا منوہر کے مقام پر بھارتی حکام نےراج محمد کا ایک منزلہ رہائشی مکان مسمار کردیاہے ۔ایک اور کارروائی میں وجے پور تحصیل کے رکھ بروٹیاں گائوں میں فرمان علی کی جائیداد ضبط کی گئی ہے۔
15 جولائی 2026۔۔۔ ضلع کولگام میں بھارتی فوج کا ایک اہلکاراسسٹنٹ سب نسپکٹردوران ڈیوٹی دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔