جواب حاضر ہے

مفتی خالد عمران خالد

مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا
سوال:مسجد کی تعمیر میں مال لگانے سےکتنا ثواب ملتاہے؟
جواب
:مسجد کی تعمیر نہایت ہی فضیلت والاعمل ہے،اور اس کے ثواب کی کوئی حد نہیں ،جتنا اخلاص ہوگا اتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا،مسجد کی تعمیر کے بارےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:کہ “جواللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد بنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا”،اور دوسری روایت میں ہے،کہ “جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا”،اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ “جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔”
مسجد کے مصارف کے لئے خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
سوال : اگر ہر جمعرات کو مسجد میں پیسے دئیے جائیں تو کیا یہ صدقہ ہے؟ صدقہ تو ان کو دیا جاتا ہے جو کہ غریب ہوں، (میں تو لڑکی ہوں، مجھے غریب لوگوں کا معلوم نہیں، اور نہ میں گھر سے نکلتی ہوں، اس لئے مسجد میں دے دیتی ہوں) کیا یہ دُرست ہے اور اس کا ثواب ملے گا؟
جواب
: جو چیز رضائے الٰہی کے لئے دی جائے وہ صدقہ ہے، اس لئے مسجد کے مصارف کے لئے خرچ کرنا بھی صدقہ ہے، صدقہ کرنے کا کوئی خاص دن نہیں، خواہ پیر کے دن دے دیا، جمعرات کو یا کسی اور دن۔
سٹہ کی رقم مسجد میں لگانا
سوال: ایک صاحب نے مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے بیس ہزار روپیہ بطور عطیہ دیا ہے، جسے مسجد کمیٹی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ عطیہ دینے والے شخص کا ذریعہٴ معاش صرف اور صرف سٹے کے کاروبار پھر بھی مسجد انتظامیہ یہ ناجائز پیسہ لے کر مسجد کی تعمیر و مرمت میں لگا رہی ہے۔
ایسے پیسے سے تعمیر کی جانے والی مسجد میں نماز کی ادائیگی کی کیا شرعی حیثیت ہوگی؟
جواب
: یہ شرعاً مسجد ہے اور نماز بھی اس میں جائز ہے، مگر جان بوجھ کر غلط رقم مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنے والے لوگ گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے
مسجد کو بانی کے نام سے منسوب کرنا
سوال:مسجد کی تعمیر کے لئے اپنی زمین دی تھی، لوگ اس مسجد کو اس شخص کے نام سے پکارتے ہیں، اور باقاعدہ طور پر اس مسجد کو اس شخص کے نام سے موسوم کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی ان کے نام پر مسجد کا نام رکھنا چاہتے ہیں، جہاں تک میری عقل کا تعلق ہے میں نے آج تک یہ نہیں سنا کہ کوئی مسجد کسی کے نام سے موسوم کی گئی ہو، کیونکہ مسجد تو اللہ کا گھر ہے، کسی کی ملکیت نہیں، اب رہا اس شخص کا تعلق جس نے مسجد کی تعمیر کے لئے زمین دی تو اس کا اجر تو اللہ دے گا۔
جواب
: مسجد کی نسبت کسی شخص کی طرف اس کے بانی کی حیثیت سے جائز ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن جب بانی مرحوم نے خود اپنے نام کی نسبت پسند نہیں کی تو ان کے لواحقین کو بھی پسند نہیں کرنی چاہئے۔
طلاق کی وجہ سے حمل ساقط کرنا
سوال :کچھ عرصہ پہلے میری طلاق ہونے والی تھی، لیکن معلوم ہوا کہ میں حمل سے ہوں، میرے شوہر چوں کہ شراب نوشی کرتے ہیں، مارپیٹ بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے میں ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور طلاق صرف حمل کی وجہ سے رکی ہوئی ہے، میڈیکلی طور پر حمل کے چھ ہفتے ہوچکے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ میں یہ حمل ساقط کرسکتی ہوں؟
جواب
:واضح رہے کہ حمل کی مدت اگر چارماہ سے زائد ہوچکی ہو، تو کسی صورت میں بھی حمل گرانا جائز نہیں ہے اور اگر چار ماہ سے کم ہے، تو بھی بغیر عذر کے حمل گرانا درست نہیں ہے،لیکن اگر کوئی عذر ہو جیسےکہ ماں کی صحت اس حمل کی مدت کو پورا کرنے کی متحمل نہ ہو، یا پہلے بچے کی پرورش میں اس کی وجہ سے خلل آرہا ہو، یا یہ کہ پہلا بچہ دودھ پیتا ہو اور حمل کی وجہ سے ماں کا دودھ بند ہوگیا ہو اور بچے کا باپ اس کے لیے دودھ کا متبادل انتظام نہ کرسکتا ہو، تو ان صورتوں میں چارہ ماہ سے پہلے پہلے حمل گرانے کی گنجائش ہے، لیکن چار ماہ کے بعد حمل گرانے کی کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے، کیوں کہ چار ماہ بعد حمل میں روح پھونک
دی جاتی ہےتو ایسی صورت میں اس کو گرانا کرنا قتل نفس کے حکم میں ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا صرف طلاق اور رشتہ ختم کرنے کی غرض سے حمل گرانا گو کہ چار ماہ سے کم کا حمل ہو جائز نہیں۔
خنزیر کے اجزاء پر مشتمل دوائی کا استعمال
سوال:کیا کسی مریض کو خنزیر کی چربی سے بنی ہوئی دوا کے استعمال کرنا چاہیے جبکہ مریض اس دوائی کے بغیر صحت نہیں پاسکتااب سوال یہ ہے کہ کیا بامر مجبوری اس گولی کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
:واضح رہے کہ کسی بھی حرام چیز کو بطورِ دوا استعمال کرنا بھی حرام ہے، الایہ کہ مسلمان ماہر دین دار طبیب یہ کہہ دے کہ اس بیماری کا علاج کسی بھی حلال چیز سے ممکن نہیں ہے اور یہ غالب گمان ہو جائے کہ شفا حرام چیز میں ہی منحصر ہے، اور کوئی متبادل موجود نہیں ہےتو مجبوراً بطورِ دوا و علاج بقدرِ ضرورت حرام اشیاء کے استعمال کی گنجائش ہوتی ہے ورنہ نہیں
نمازی کے آگے سے گزرنا
سوال:کیا نمازی کے آگے گذرنا جائز ہے
جواب
:نمازی کے آگے سے گزرنا سخت گناہ اور شرعاً ممنوع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والاجان لے کہ اس پر کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے لیے چالیس (دن، ماہ یا سال) تک کھڑا رہنا اس سے بہتر ہوتا کہ وہ نمازی کے آگے سے گزرے۔بغیر (آڑ) کے نمازی کے سامنے سے گزرنا مکروہِ تحریمی اور گناہ کا باعث ہے۔ نماز باطل نہیں ہوتی لیکن ثواب میں کمی واقع ہوتی ہے۔
سوال: کتنے فاصلے سے گزر سکتے ہیں
جواب
: کھلے میدان یا بڑی مسجد میں نمازی کے آگے سے اتنا فاصلہ چھوڑ کر گزرنا جائز ہے کہ سجدے کی جگہ اور گزرنے والے کے درمیان کم از کم تین صفوں کی جگہ بنتی ہو۔ چھوٹی مسجد یا گھر میں آڑ لئے بغیر دیوارِ قبلہ تک کسی بھی جگہ سے گزرنا منع ہے۔نمازی کو چاہیے کہ سامنے کوئی چیز (جیسے ستون، چھڑی یا جائے نماز کا کنارہ) بطور سُترہ یعنی آڑ رکھ لے۔ اگر نمازی نے سُترہ رکھا ہے، تو گزرنے والے کو سُترہ کے باہر سے گزرنا چاہیے۔