اقوام متحدہ کی ذمہ داری

اقوام متحدہ کی ذمہ داری اور عالمی قوانین

محمد احسان مہر

اقوام متحدہ کی موجودگی میں؛ عالمی طاقتیں؛جس طرح عالمی قوانین کا مذاق اُڑا کر انہیں روندھتے ہوئے علاقائی تنازعات کو عالمی جنگوں کی شکل دے رہی ہیں، اور دنیا کے مختلف خطے تباہی و بربادی کا جومنظر دیکھ رہے ہیں،ایسے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل فقط (جنگوں کی ممکنہ تباہ کاریوں کے خطے اور عالمی سطح پر اثرات کے متعلق) خدشات کا اظہار کرکے کیا عالمی برادری کے سامنے اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔۔۔؟تقریبا80سال قبل عالمی برادری نے جنگوں کے خاتمے،تنازعات کے پُرامن حل ،انسانیت کو تباہی وبربادی سے بچانے اور انسانیت کو امن و خوشحالی کی بنیاد فراہم کرنے کیلئے جب اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی تو اُس کے پیچھے کیا جذبہ تھا۔۔۔؟کیاعالمی برادری آج اس جذبے سے محروم ہے۔۔۔ یا مفادات کا شکار۔۔۔؟حقیقت سب کے سامنے ہے۔

آج دنیا فلسطین اور مقبوضہ ریاست جموں وکشمیرمیں مسلمانوں پر ظلم و ستم ،ان کی نسل کشی اور تباہی و بربادی کے مناظر کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے ،لیکن عالمی برادری خاموش اور اقوام متحدہ بے حس و بے ضمیر نظر آتی ہے۔ اب یوکرین اور مشرق وُسطیٰ بھی تباہی و بربادی کا منظر پیش کر رہے ہیں ،مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی شرارت اور امریکی اناء کی وجہ سے دنیا ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے،سوال یہ ہے کہ امریکہ طاقت کے بل بوتے پر عالمی قوانین کوروندھتے ہوئے اوراقوام متحدہ کے اختیار پامال کرکے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو تباہی و بربادی کی جانب کیوںدھکیل رہا ہے ۔۔؟

امریکہ خطے میں اپنے مفادات کی سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر خطے کے امن واستحکام کوبحران کی طرف دھکیل کر بین الا اقوامی قوانین اور عالمی امن کے ساتھ کھیل رہا ہے،اگر امریکہ کو حقیقت میں ایران سے کچھ خدشات تھے تو وہ اقوام متحدہ سے رجوع کرتا،ڈونلڈ ٹرمپ کے بلا جواز ،اشتعال انگیز اقدامات امریکی ساکھ کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی ساکھ بھی خراب کررہے ہیں، اور دوسری جانب دہائیوں سے فلسطینی اور کشمیری مسلمانوںپر قابض قوتوں کے جاری مظالم عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری پر سوال اٹھا رہے ہیں، عالمی سطح پر فلسطین اور کشمیر جیسے؛ حل طلب درینہ مسائل ؛حل نہ کرنے اوردنیا کے مختلف ممالک میں طویل جنگوں اور ان جنگوں کے پیچھے امریکی مفادات کا کھیل عالمی برادری دہائیوں سے دیکھ رہی ہے ایران کی آبنائے ہُرمُز بند کرنے کے جواب میںامریکہ کی ایران کی ناکہ بندی عالمی قوانین کا مذاق ہے ، مفروضوں ،الزامات اور نام نہاد تحفظات کو بنیاد بنا کر اسرائیل ،امریکہ کی ایران پر چڑھائی جھوٹی اناء اور علاقائی بالادستی کی بھونڈی کوشش ہے، ایران ملکی آزادی وخومختاری اور دفاع کی خاطر اقدامات اُٹھا رہا ہے،جبکہ امریکی اقدام جارحانہ اور اشتعال انگیزی کے سوا کچھ نہیں،امریکہ کی ایران پر مسلط کردہ یہ لاحاصل جنگ خطے میں تباہی و بربادی اورامریکی تسلط کے خاتمے کا باعث بنے گی،امریکی بمباری کے نتیجے میں تباہی و بربادی کے باوجود ایران اٹھ کھڑا ہو گا ،لیکن امریکہ زوال کی تہوں میں دھنس جائے گا ،مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کیلئے ؛اسرائیل کو لگام؛ اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے،

اقوام متحدہ اور عالمی برادری ایران ،امریکہ جنگ سے پہلے غزہ میں اسرائیل کی سفاکیت، بربریت اور ریاستی دہشت گردی دیکھ چکی ہے۔جنوبی ایشاء میں ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا غیر آئینی اور غیر قانونی بھارتی اقدام پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی طویل اور پُر اسرار خاموشی بھی معنی خیز ہے،بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کو حق خوداردیت کا موقع دینے کے وعدے کی پاسداری کرنیکی بجائے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں اور پاکستان کو دھوکا دے کر اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کا مذاق اُڑایا ہے،پاکستان کا معرکہ حق کے دوران کشمیر میں بھارتی فوجی قیادت کو وارننگ دے کر چھُوڑدینا کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے،ایسے موقع پر ملک توڑنے کے مجرم ، لاکھوں کشمیریوں اور مسلمانوں کے قاتلوں کو کشمیر سے کھدیڑ کر باہر کرنیکی ضروت تھی، بحرحال مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، قوموں کی زندگی میں بار ،بار ایسے موقعے آتے ہیں بس ذرا سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے، کشمیری قوم کی ثابت قدمی ہی عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے مُنصفانہ کردار کی ضمانت ہے،یقین رکھنا چاہئے کہ پاکستان عالمی برادری کو ساتھ لے کر عالمی قوانین کی پاسداری اور اقوام متحدہ کے ذمہ دارانہ کردار کونبھانے کیلئے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا ،اور ان شاء اللہ وہ دن جلد اور ضرور آئے گاجب بھارت جنت نظیر(خطہ کشمیر) سے رُسوا ہو کر نکلے گا، اوراس وقت تک بھارت بھی ہندئوتواء کے پیرو کاروں کیلئے جہنم بن چُکا ہو گا۔