کوثر اقبال، عبدالماجد بھائی

کوثر اقبال المعروف اے ڈی باوفا دوست تھے

عادل ترابی

گزشتہ اتوار 12 جولائی کو ہم صبح 10 بجے ٹیکسیلا پہنچے اور مہاجرین/مجاہدین مقبوضہ جموں وکشمیر کے ماہانہ اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔مہاجرین کے اس اجتماع میں کم و بیش تیس چالیس ساتھی شریک ہوئے۔درس قرآن کی بابرکت نشست منعقد ہوئی۔ اجتماع کے اختتام پر ساتھیوں نے بھرپور محبت کا اظہار کیا اور باری باری گلے ملتے رہے ،آخر پر ایک لمبے قد کے کڑیل جوان مسکراتے چہرے کے ساتھ آگے بڑے اور محبت سے لبریز شکایتی انداز میں گویا ہوئے کہ” عادل بھائی آپ تو اب مجھے شاید پہچانتے بھی نہیں ہیں!” ہم نے فوراً بھرپور اپنایت اور محبت کیساتھ جواب دیا کہ “اے ڈی” کوثر اقبال کو کیسے کوئی بھول سکتا ہے۔گزشتہ کل ہفتہ کو نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد محترم طاہر اعجاز بھائی نے مسجد میں جب یہ دلدوز خبر سنائی کہ اے ڈی( کوثر اقبال ) ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔

اس کے بعد سب سننے والوں پر سکتہ طاری ہوگیا اور کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کہیں تو کیا کہیں! بس ایک ایسی خاموشی چھا گئی جو چیخ چیخ کر یہ بتا رہی تھی کہ کوئی خاص دوست رخصت ہوکر اپنے رب کے حضور پیش ہوگیا ہے جس کے جانے پر سب دل رنجیدہ اور ہر آنکھ نمناک تھی۔ پہلی بار ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اے ڈی بھائی کے جانے سے دنیا کی ناپائیداری دل میں گھر کر گئی اور سارے مشاغل اور دلچسپیوں کا قبلہ ہی تبدیل ہوکر رہ گئی بے شک اے ڈی سے ہمارا قریبی اور دوستانہ تعلق تھا،وہ انتہائی با اخلاق،ہنس مکھ اور باوفا دوست تھے ۔وہ جہاں گئے اور جس جگہ بھی رہے انہوں نے اپنے ساتھیوں اور دوستوں کو صرف گفتار سے نہیں بلکہ عمل سے صبر و ثبات کے معنی سمجھائے۔موت برحق ہے یقینی ہے زندگی کا حاصل ہے لیکن جب کوئی دوست اس طرح چلا جاتا ہے تو بہت وسوسے اور خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ پتہ نہیں کیا ہوا ہوگا۔کون سا غم اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ گیا ہوگا۔کن کن مجبوریوں اور محرومیوں نے دل کی دھڑکن کو روک دیا ہوگا۔پتہ نہیں کتنے غم تھے جو دل کے تہہ خانوں میں ڈھیرے ڈال کر اسے اندر ہی اندر کھوکھلے کرچکے تھے۔مجھے بس ڈر اور خوف اس بات کا ہے کہ اگر میرے یہ سارے وسوسے حقیقت ہوئے تو میں کل اللہ کی بارگاہ میں پیش کیسے ہوں گا۔میرے پاس اس بے بسی کا کیا جواب ہوگا اور میں ان مجبوریوں اور محرومیوں کو کیسے جسٹیفائی کروں گا۔ابھی تو ماجد بھائی کا زخم بالکل تازہ تھا جو اپنے بچوں کی حلال روزی روٹی کے لئے بجلی کی تاروں سے لڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہوئے تھے۔اے ڈی تمہیں اتنی جلدی نہیں جانا چاہیے تھا۔کوئی مسئلہ یا پریشانی تھی تو بتا دینی چاہیے تھی۔ہم کچھ بھی کرکے آپ کی پریشانی کا ازالہ کرتے۔مگر یہ کیا بات ہوئی کہ آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہی دور ہوگئے۔اللہ آپ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ہمارے سارے وسوسوں کو بے بنیاد اور بے وقعت فرمائے۔آمین


عبدالماجد ۔۔ بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

اویس بلال

پوری بستی آج مقبوضہ جموں و کشمیر، ضلع پونچھ کے رہائشی عبدالماجد صاحب کی اچانک رحلت کی خبر سن کر سکتے کے عالم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ جس جس شخص، ماں، بہن، بزرگ، نوجوان اور بچے نے یہ خبر سنی کہ ماجد بھائی بجلی کے کام کے دوران انتقال کر گئے ہیں، اس کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ ہر طرف غم کی فضا طاری ہے اور لوگ ابھی تک اس خبر پر یقین نہیں کر پا رہے۔نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اور ان کے جذبات نے واضح کر دیا کہ مرحوم لوگوں کے دلوں میں کس قدر محبت اور عزت رکھتے تھے۔ شدید گرمی کے باوجود سینکڑوں افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ اسلام آباد میں دو مرتبہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ جنازہ گاہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آ رہی تھی۔ نائب امیر حزب المجاہدین تاج علی شاہ صاحب نے قرآن و سنت کی روشنی میں ہجرت، صبر، قربانی اور مجاہد و شہید کے مقام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہجرت کی زندگی آسان نہیں ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک صبر اور استقامت کی بڑی فضیلت ہے۔ انہوں نے مرحوم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے کام آنا، تکلیف میں ساتھ دینا اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزارنا ایک عظیم نعمت ہے۔عبدالماجد مرحوم پیشے کے اعتبار سے الیکٹریشن تھے اور رزقِ حلال کمانے کے لیے دن رات محنت کرتے تھے۔ وہ صبح سویرے گھر سے نکلتے اور شام تک مختلف مقامات پر بجلی کے کام انجام دیتے۔ سخت گرمی ہو یا شدید سردی، انہوں نے کبھی محنت سے جی نہیں چرایا۔مرحوم کو اپنے آبائی علاقے اور اپنے لوگوں سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ اپنے وطن اور وہاں بسنے والے لوگوں کے حالات سے ہمیشہ باخبر رہتے تھے۔ ہجرت کی زندگی نے انہیں بے شمار مشکلات سے دوچار کیا، لیکن انہوں نے کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اپنے خاندان کی کفالت، بچوں کی پرورش اور زندگی کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے مسلسل محنت کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی خدمت کی، ان کے کام آئے اور اپنے حسنِ اخلاق سے دل جیتے۔ان کی یاد میں یہ اشعار بے اختیار زبان پر آتے ہیں:

لوگ اچھے ہوں تو مر کر بھی کہاں مرتے ہیں
دل کے گوشوں میں وہ زندہ ہی رہا کرتے ہیں
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

ان کی مسکراہٹ، ان کا اخلاص، ان کی محنت، ان کی خدمت، ان کی محبت اور ان کا حسنِ اخلاق ہمیشہ ان کے جاننے والوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔اللہ تعالیٰ مرحوم عبد الماجد کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین۔