جدوجہد اآزادی کا استعارہ۔۔۔شہید محمد اشرف صحرائی
شہباز بڈگامی
تحریک آزادی کشمیر کے مدبر قائد شہید محمد اشرف صحرائی کی شہادت کوپورے پانچ برس مکمل ہوچکے ہیں۔جناب محمد اشرف صحرائی کو ان کے لخت ہائے جگر جنید صحرائی کی شہادت کے بعد ہی گرفتار کرکے کوٹ بھلوال جیل جموں میں مقید کرکے انہیں تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا،جس کے نتیجے میں وہ 5مئی 2021 کو جیل کے اندر ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ان کی میت راتوں رات ان کے آبائی علاقہ لولاب پہنچائی گئی اور صرف خاندان کے 20 افراد ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوسکے،البتہ اہل کشمیر نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تمام مساجد میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی،جبکہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر ان کی غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیاتھا۔حد تو یہ ہے کہ ان کی شہادت کے چند دنوں بعد ہی ان کے دو بیٹوں مجاہد اشرف صحرائی اور راشد اشرف صحرائی کو گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔محمد اشرف صحرائی جنہوں نے کئی دہائیوں تک مقبوضہ جموں وکشمیرپر بھارت کے غیر قانونی اور غاصبانہ قبضے کو چیلنج کررکھا تھا، 05مئی 2021کو دوران حراست شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے ۔بلاشبہ ان کی حراستی شہادت کی براہ راست ذمہ دار مودی حکومت ہے کیونکہ متعدد عارضوں میں مبتلا ہونے کے باوجودکوٹ بھلوال جیل میںانہیں علاج ومعالجہ کی کوئی معمولی سہولت بھی بہم نہیں پہنچائی گئی۔محمد اشرف صحرائی کے لخت جگر جنید صحرائی بھی19 مئی 2020میں نواکدل سرینگر میں ناجائز بھارتی قبضے کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تھے۔محمد اشرف صحرائی کی حراستی شہادت نے ثابت کیا کہ مودی حکومت آزادی پسند کشمیری قیادت کو قتل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

محمداشرف صحرائی کی عمر 77برس تھی جب ان پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹPSA عائد کیاگیا تھا جس کے تحت وہ جموں کی کوٹ بھلوال میں مقید تھے، جب ان کی طبیعت بگڑ گئی توانہیں اسوقت ہسپتال منتقل کیاگیا جب ان کے زندہ بچنے کے تمام امکانات معدوم ہو چکے تھے،جبکہ ان کے اہلخانہ کو ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں بھی لاعلم رکھاگیاتھا، وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموںو کشمیر کے اساسی رکن بھی تھے،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے نظریہ ساز تھے،تو غلط نہیں ہوگا۔وہ تقریبا نصف صدی سے زائد عرصے تک جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کیساتھ وابستہ رہے۔ انہو ں نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف انتھک جدوجہد کی، محمد اشرف صحرائی سخت جان آزادی پسند قائد تھے اور انہوں نے جدوجہد آزاد ی کی راہ میں اپنے بیٹے جنید صحرائی کی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا۔جس پر انہیں وہ عظمت و مقام ملا ،جس کا شاید ہی کوئی ان کا ہم عصر اور ہم پلہ ہوسکتا ہے۔

77 برس کے محمد اشرف صحرائی کے لخت جگر جنید صحرائی نے MBA کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی ،بھارتی جبر کے نتیجے میںجنید نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور پھر اپنی جان بھی اسی راہ میں قربان کی۔ بیٹے کی شہادت کے فورا بعد جولائی کے مہینے میں محمد اشرف خان صحرائی کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا تھا۔ ان کی جیل میں شہادت کیساتھ ہی کشمیری نظربندوں کی سلامتی کے بارے میں تشویش مزید بڑھ گئی تھی۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی بار ایسوسی ایشن نے جناب صحرائی کی شہادت کو حراستی قتل قرار دیا تھا۔شہادت کے وقت تک جناب صحرائی تحریک حریت کے سربراہ تھے۔ صحرائی صاحب برسوں بھارتی جیلوں میں گزا رچکے ہیں، مودی اور اس کے حواری انہیں جیل کی سلاخوں سے کیا ڈراسکتے تھے؟پاکستان کی سابق وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے محمد اشرف صحرائی کی جیل میں شہادت پر ٹویٹ میں لکھا تھاکہ بھارتی فسطائیت اہل کشمیر کو خاموش نہیں کر سکتی۔محمداشرف صحرائی جماعت اسلامی کے ان چند رہنماوں میں شامل ہیں جنہوں نے انتخابی سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا تاہم موجودہ حالات میں قید کے دوران ان کی شہادت نے ان نظریات کو تقویت پہنچائی ہے جن میں کشمیری نظربندوں کی سلامتی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ 5 اگست 2019 میں جب مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کی گئی تو پوری آزادی پسند قیادت اور ان کے کارکنوں کو قید کیا گیا۔جس کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر کی ایک درجن سے زائدجیلوں میں مقید تقریبا پانچ ہزار کشمیری نظربندوں کے بارے میں تشویش بڑھ گئی۔مقبوضہ جموں کشمیر کی 13 جیلوں میں ہزاروں آزادی پسندمقید ہیں ۔بدنام زمانہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں بنددرجنوں حریت رہنماوں کے اہلخانہ بار بار اپیل کر رہے ہیں کہ انہیں واپس مقبوضہ وادی کشمیر کی جیلوں میں منتقل کیا جائے۔

یقیناکشمیری عوام محمد اشرف صحرائی کی تحریک آزادی کشمیر کیلئے قابل قدر جدوجہد اور عظیم قربانیوں پر انہیںسلام پیش کرتے ہیں۔ جس نے آخری سانس بھی بھارتی جیل میں رہ کر تحریک آزادی کشمیر سے ایسی وفا نبھائی ہے کہ جس کی حلاوت پانچ برس گزرنے کے باوجود بھی محسوس کی جاتی ہے۔ان کی تمام عمر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف برسرپیکار رہ کر گزری، کوئی جبر انہیں ان کی راہ سے ہٹا نہیں سکا، اپنے صاحبزادے جنید صحرائی کی شہادت کا غم بھی انہوں نے ناقابل بیان ہمت سے سہا، وہ آخری دم تک کشمیری عوام کی آزادی اور غا صب بھارتی افواج کے خلاف سینہ تان کر کھڑے رہے۔ ان کی جدوجہد تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ کشمیری عوام نے گزشتہ سات اٹھ دہائیوں سے تحریک آزادی میں وہ قربانیاں دی ہیں جن کی مثال حالیہ تاریخ میں شاید ہی کہیں ملتی ہو۔ بھارتی جارحیت کیخلاف جدوجہد کرنیوالی کشمیری عوام کی چوتھی نسل اس وقت بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے برسر پیکار ہے۔ کشمیری عوام میں بھارت سے جلد آزادی حاصل کرنے کا جذبہ کسی صورت مدہم نہیں پڑ چکا ہے اور مودی حکومت کے تمام فسطائی ہتھکنڈے آزدای کی چنگاری کودبانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ محمد اشرف صحر ائی اور ان کے خاندان کی تحریک آزادی کشمیرمیں عظیم اور لازوال قربانیاں ہیں، جن پر اہل کشمیر کو کل بھی فخر تھا،آج بھی ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی ہوگا، بھارت کی قید وبند کی صعوبتیں ان کے آہنی عزم کو متزلزل نہیں کر سکیں۔محمد اشرف صحرائی عزم صمیم کا پیکر تھے ،یوں بھارت کا جبر ان کے سامنے پاش پاش ہوگیا۔
تحریک آزادی کیلئے انہوں نے اپنے بیٹے کی شہادت پر کہا،ان کے دوسرے بیٹے بھی شہادت کیلئے تیار ہیں۔جب جنید نے حزب المجاہدین میں شامل ہوکر عسکری جد وجہد کا راستہ اختیار کیا تھا تو قابض بھارتی انتظامیہ نے جناب محمد اشرف صحرائی سے بیٹے کو واپس آنے کی اپیل کرنے کیلئے کہا تھا جس پر اس مرد قلندر، حق آگاہ اوراہل با بصرت نے یہ تاریخی الفاظ کہہ کر ہمیشہ کیلئے تاریخ میں امر ہوگئے کہ جب ہم دوسرے بیٹوں کو واپس آنے کی اپیل نہیں کرتے تو میں اپنے بیٹے جنید کو واپس آنے کی کیونکر اپیل کروں گا؟کیا جنید کا خون دوسرے کشمیری بیٹوں سے قیمتی ہے؟لہذا میں جنید کو واپس آنے کی اپیل نہیں کروں گا،انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے،وہ سوچ سمجھ کر ہی اختیار کیا ہے۔ان الفاظ نے جناب محمد اشرف صحرائی کو پوری دنیا کے آزادی پسندوں کی نظروں میں ایسا باعزت مقام اور مرتبہ عطا کیا ہے کہ جس کے بارے میں دوسرے خواہش ہی کرسکتے ہیں،لیکن ایسا مقام و مرتبہ مرد کوہستانی جناب اشرف صحرائی کا ہی نصیب ٹھہرا۔
بلاشبہ شہید محمد اشرف خان صحرائی تحریک آزادی کشمیر کے ایک نڈر ،بے لوث اور انتہائی مخلص رہنما تھے، وہ ایک شہید بیٹے جنید صحرائی کے والد تھے جبکہ ان کے خاندان کے کئی اور لوگ بھی تحریک آزادی میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔جن میں ان کا بھتیجا جو کہ حزب المجاہدین کیساتھ وابستہ تھے،1990کے اوائل میں شہید ہوچکے ہیں۔ان کا دوسرا بھتیجا نجم الدین خان چند برس قبل مہاجرت کے سفر میں اپنی نذر پوری کرچکے ہیں۔ان کے بڑے بھائی کو شدید تعزیب کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں،وہ ذہنی طور پر مفلوج ہوگئے اور اسی حال میں اللہ کو پیارے ہوئے ۔ بھارتی عتاب کا کوڑا مسلسل صحرائی خاندان پر برستا رہا،مگر اس خاندان کو نہ تو ڈرایا جاسکا اور نہ ہی عظیم تر تحریک سے دستبردار کیا جاسکا ہے۔
شہید محمد اشرف صحرائی نے زندگی کا بیشتر حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا لیکن ان کے پایہ استقلال میں کبھی کوئی لغزش نہیں آئی، انہوں نے قید و بند کی صعوبتوں کو اپنے اسلاف کی سنت سمجھ کر برداشت کیا۔ اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ امام ابوحنیفہ کی طرح ان کا جنازہ بھی جیل سے نکلا۔وہ صرف گفتار کے نہیں بلکہ کردارکے بھی غازی تھے۔شہید محمداشرف صحرائی اپنے پیچھے عزم و ہمت اور قربانیوں کی لازوال داستان چھوڑ گئے اور آخری دم تک تحریک آزادی کشمیرکیساتھ اپنا عہد نبھاتے رہے۔کشمیری قوم اپنے اس عظیم رہنما کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ان کی جدوجہد اور قربانی اہل کشمیر کیلئے مشعل راہ ہے۔شہید محمد اشرف صحرائی کی زندگی ایک روشن باب ہے، جو جدوجہد، قربانی اور اصول پسندی کا آئینہ دار تھی۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کیلئے آواز بلند کی اور اپنی منزل کے حصول کی غرض سے ہر قسم کی قربانی دینے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ ان کی جدوجہد صرف ظلم و جبر کے خلاف نہیں تھی بلکہ انسانی وقار، مساوات،انصاف اور آزادی کے اصولوں کی بھی حفاظت تھی۔ محمد اشرف صحرائی نے اپنی زندگی کو اہل کشمیر کی خدمت، مظلوموں کی حمایت اور کشمیری عوام کی آزادی کے خواب کی تکمیل کیلئے وقف کیا۔ وہ ہمیشہ مظلوم اور محروم طبقوں کیساتھ کھڑے رہے اور اپنی جدوجہد کے دوران خوف یا دباو کو کبھی قبول نہیں کیا۔ ان کی قربانی نہ صرف ان کے دور کیلئے مشعل راہ ہے بلکہ آج بھی تحریک آزادی، انسانی حقوق اور عدل و انصاف کے علمبرداروں کیلئے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچائی اور حق کی راہ میں استقامت، ثابت قدمی اور قربانی ہی حقیقی تبدیلی کی بنیاد ہیں۔ محمد اشرف صحرائی کا نام ہمیشہ احترام، یاد اور عزم کیساتھ زندہ رہے گا، اور ان کی جدوجہد ہر آنے والی نسل کیلئے تحریک کا سبب بنی رہے گی۔
شہید محمد اشرف صحرائیؒ بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔محمد اشرف صحرائی جیسے شہدا کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا حقیقی اثاثہ ہیں۔محمد اشرف صحرائی تحریک آزادی کشمیر کے بطل حریت امام سید علی گیلانی ؒکے حد درجہ وفادار اور قابل اعتماد دست راست تھے۔اس کے علاوہ شہید اشرف صحرائی پوری زندگی پاکستان کے پرجوش حامی رہے۔محمد اشرف صحرائی جیسے شہدا اپنے خون سے مادر وطن کا مستقبل لکھ رہے ہیں۔

محمد شہباز بڈگامی معروف کشمیری صحافی اور کالم نگار ہیں۔ کشمیر الیوم کے لیے مستقل بنیادوں پر بلا معاوضہ لکھتے ہیں۔






