ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی

بریرہ بنت نہال

ناکامی کو عام طور پر منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہی ناکامی انسان کو کامیابی کی راہ دکھاتی ہے۔ اگر گہرائی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ناکامی دراصل ایک ایسا تجربہ ہے جو انسان کو اپنی کمزوریوں سے آگاہ کرتا اور اسے بہتر بننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:(سورۃ البقرہ: 216)ترجمہ ۔۔۔اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ بعض اوقات جو چیز ہمیں بری لگتی ہے، دراصل وہ ہمارے حق میں بہتر ہوتی ہے۔ ناکامی بھی بظاہر ایک تکلیف دہ تجربہ ہے، مگر یہی انسان کو سکھا کر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر معاملے میں بھلائی ہے(صحیح مسلم)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ایک مومن کے لیے ہر حال میں خیر ہے، چاہے وہ کامیابی ہو یا ناکامی۔ ناکامی بھی دراصل ایک آزمائش ہے جو انسان کو صبر، استقامت اور محنت کا درس دیتی ہے۔
مشہور اردو قول ہے:ناکامی انسان کو وہ سبق سکھاتی ہے جو کامیابی کبھی نہیں سکھا سکتی
یہ قول اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جب انسان ناکام ہوتا ہے تو وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتا ہے، اپنی حکمتِ عملی کو بہتر بناتا ہے اور دوبارہ پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترتا ہے۔
شاعر شعر میں اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں
گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ناکامی دراصل ان لوگوں کا مقدر ہوتی ہے جو کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ جو لوگ کوشش ہی نہیں کرتے، وہ ناکامی اور کامیابی دونوں سے محروم رہتے ہیں۔

ایک اور شعر ملاحظہ ہو:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
یہ اشعار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زندگی میں ہر خواہش پوری نہیں ہوتی، مگر یہی ادھوری خواہشات اور ناکامیاں انسان کو مزید محنت کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔
طلبہ زندگی کے اس مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں چھوٹی سی ناکامی بھی بہت بڑی محسوس ہوتی ہے، جیسے امتحان میں کم نمبر آنا یا کسی مقابلے میں پیچھے رہ جانا۔ مگر یاد رکھیں، یہی ناکامیاں آپ کی اصل تربیت کرتی ہیں۔ اگر آپ ہر ناکامی کے بعد ہمت ہار دیں گے تو آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا، لیکن اگر آپ اسے سیکھنے کا موقع سمجھیں گے تو یہی ناکامی آپ کی کامیابی کی بنیاد بن جائے گی۔ اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں، محنت کو جاری رکھیں، اور اپنے مقصد سے کبھی غافل نہ ہوں۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو بار بار گر کر بھی اٹھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ناکامی کوئی انجام نہیں بلکہ ایک نیا آغاز ہے۔ یہ انسان کو سکھاتی ہے، سنوارتی ہے اور اسے کامیابی کے قریب لے جاتی ہے۔ اگر انسان ہمت نہ ہارے اور اپنی غلطیوں سے سیکھتا رہے تو وہ دن دور نہیں جب ناکامی کامیابی میں بدل جائے گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ناکامی سے گھبرانے کے بجائے اسے ایک موقع سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے استعمال کریں۔