عبد الرشید ڈار
کشمیر کی تحریکِ آزادی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک کی علامت بن جاتی ہیں۔ حزب المجاہدین کے ڈپٹی ایڈوائزر جنرل احمد حسن شہیدؒ بھی انہی عظیم شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام، تحریکِ اسلامی اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے وقف کر دی۔ وہ ایک ایسے قائد تھے جنہوں نے نہ صرف اپنے افکار اور کردار سے ہزاروں نوجوانوں کو متاثر کیا بلکہ عملی میدان میں بھی قربانی، استقامت اور قیادت کی ایسی مثالیں قائم کیں جو تاریخ کا حصہ بن گئیں۔جولائی 1997ء کی ایک سرد اور تاریک رات تھی۔ پیر پنچال کے برف پوش اور فلک بوس پہاڑوں میں تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ایک چوٹی پر احمد حسن شہیدؒ اپنے چند رفقائے کار کے ساتھ موجود تھے۔ یہ مقام ان دنوں مجاہدین کی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔ بھارتی فوج کو جب اس کی اطلاع ملی تو اس نے ایک بڑے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کی۔ سینکڑوں کمانڈوز کو ہیلی کاپٹروں اور پیرا شوٹوں کے ذریعے چوٹی کے اطراف اتارا گیا جبکہ نیچے وادیوں اور درّوں میں فوجی دستے تعینات کر دیے گئے تاکہ مجاہدین کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔

دشمن کو یقین تھا کہ اتنی بڑی فوجی قوت کے سامنے چند مجاہدین زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کر سکیں گے، لیکن اسے احمد حسن شہیدؒ اور ان کے تربیت یافتہ ساتھیوں کے عزم و حوصلے کا اندازہ نہ تھا۔ حالات کا ادراک ہوتے ہی مجاہدین نے اپنے مورچے سنبھال لیے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ پسپائی اختیار کرنے کے بجائے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فجر سے پہلے کے لمحات تھے۔ وہی وقت جب احمد حسن شہیدؒ معمول کے مطابق تہجد میں اپنے رب کے حضور کھڑے ہوا کرتے تھے، تحریک کی کامیابی اور شہادت کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اس روز شاید ان کی دعاؤں کی قبولیت کا وقت آ پہنچا تھا۔ شدید معرکے کے بعد ایک ایک کر کے ان کے ساتھی شہادت کی منزل پاتے گئے اور جب سورج نے پیر پنچال کی چوٹیوں پر اپنی پہلی کرنیں بکھیریں تو احمد حسن شہیدؒ بھی اپنے رفقاء کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ اس معرکے میں بھارتی فوج کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور متعدد کمانڈوز مارے گئے یا زخمی ہوئے۔
احمد حسن شہیدؒ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت کئی خوبیوں کا حسین امتزاج تھی۔ وہ بڈگام کے علاقے گوہر پورہ چاڈورہ میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کی، بی اے اور ایل ایل بی کیا اور عدلیہ میں بحیثیت ریڈر ملازمت اختیار کی۔ ان کے سامنے ایک آرام دہ اور محفوظ زندگی کا راستہ موجود تھا، مگر انہوں نے دنیاوی آسائشوں کے بجائے دعوتِ دین اور تحریکِ اسلامی کی خدمت کو ترجیح دی۔
طالب علمی کے زمانے میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں کا مطالعہ ان کی فکری زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، محنت اور اخلاص کی بدولت جلد ہی مختلف تنظیمی ذمہ داریوں پر فائز ہو گئے۔ رفیق سے رکن، مقامی ذمہ داریوں سے ضلعی سطح تک اور پھر مرکزی شوریٰ کی رکنیت تک ان کا سفر مسلسل جدوجہد اور قربانیوں سے عبارت تھا۔جماعت اسلامی کشمیر کے کارکنوں کو اس دور میں شدید ریاستی جبر اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ احمد حسن شہیدؒ بھی کئی مرتبہ گرفتار ہوئے اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر ان کا عزم کبھی متزلزل نہ ہوا۔ رہائی کے بعد وہ دوبارہ دعوتی، سماجی اور تنظیمی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے۔ مساجد میں خطابات کرتے، گھروں اور بازاروں میں لوگوں سے ملاقاتیں کرتے اور تحریک کا پیغام عام کرتے۔1986ء میں جب اسلام پسند رجحان رکھنے والے متعدد سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا تو احمد حسن شہیدؒ نے مسلم ایمپلائز فرنٹ کو فعال بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ متاثرہ خاندانوں کی کفالت اور حوصلہ افزائی کے لیے وہ مسلسل سرگرم رہے۔ یہی جذبۂ خدمت بعد میں تحریکِ آزادی کے میدان میں بھی نمایاں نظر آیا۔مسلح جدوجہد کے آغاز کے بعد انہوں نے تنظیمی اور عسکری دونوں محاذوں پر اہم خدمات انجام دیں۔ کمپنی ایڈمنسٹریٹر اور بٹالین کمانڈر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں کی تربیت، تنظیم سازی اور نئے علاقوں میں تحریک کو منظم کرنے پر خصوصی توجہ دی۔ راجوری، پونچھ، ادھم پور اور پیر پنچال کے علاقوں میں مجاہدین کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
احمد حسن شہیدؒ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ دوسروں کو جس راستے کی دعوت دیتے تھے، خود سب سے پہلے اس پر عمل کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے، عزیزوں اور قریبی ساتھیوں کو بھی اسی قافلے میں شامل کیا۔ ان کی زندگی قول و فعل کی یکسانیت کی بہترین مثال تھی۔ مجاہدین کے اندر دینی شعور، اخلاقی تربیت اور اخلاص پیدا کرنے کے لیے وہ مسلسل کوشاں رہتے۔عبادت سے ان کا تعلق غیر معمولی تھا۔ تہجد، نفلی روزے، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی ان کے معمولات میں شامل تھے۔ ان کے ساتھیوں کے مطابق رات کے آخری پہر انہیں روتے، گڑگڑاتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے دیکھنا ایک عام منظر تھا۔ وہ جسمانی تربیت اور عسکری مشقوں میں بھی نوجوان مجاہدین کے شانہ بشانہ شریک ہوتے اور کسی قسم کی رعایت قبول نہیں کرتے تھے۔
بیس کیمپ میں قیام کے دوران بھارتی فوج نے احمد حسن کے مکان کو بارود سے تباہ کردیا ۔ اس کے رد عمل میں کہا ۔۔۔’’گھروں کو جلا کر معصوم بچوں کا خون کرکے ، ہمارے جسموں کے ٹکڑے کرکے، عزتوں کو پامال کرکے اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ ہمیں راہ جہاد پر چلنے سے روک لے گا۔ ہماری تحریک کو کچل دے گا ، تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔‘‘ اتحاد بین المجاہدین ان کی دلی تمنا تھی ۔اس کے لیے مجاہد تنظیموںکیساتھ رابطے کئے اور ذاتی طور پر ان کے ذمہ داران سے ملتے۔ متحدہ جہاد کونسل کے قیام میں ان کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ احمد حسن شہید بے باک اور صاف گو تھے ۔ بات دو ٹوک کرتے تھے۔ لمبی ڈاڑھی اور سر پر گرمیوں میں سفید اور سردیوں میں افغان ٹوپی رکھتے۔سادگی آ پ کا شعار ، سخت کوشی اور جفا کشی آپ کی عادت بن گئی تھی ۔
اپریل1997ء کے آخری دنوں میں گرم مورچوں کی طرف روانہ ہوئے۔ جانے سے پہلے ہر ایک جاننے والے سے ملے۔ سہو وخطا پر معافی مانگی ،جن سے مل نہ سکے انہیںخطوط لکھے اور غلطیاں معاف کردینے کی درخواست کی۔ادھم پور پہنچ کر نوجوانوں کو تربیت کے لیے نکالا ۔ ان کے اندر جہاد کی تڑپ پیدا کی ۔ احمد حسن صاحب نے یہ کام ثابت کردیا کہ محنت اور لگن سے کوئی بھی مشکل کاانجام دیا جاسکتا۔ زبیر خان جو آپ کے ساتھ شہید ہوگئے۔ چوہدری حاجی بلند خان کے فرزند ارجمند ہیں۔حاجی صاحب نیشنل کانفرنس کے سابق اسمبلی ممبر اور ایک بورڈ کے چیرمین رہے ہیں۔ یہ احمد حسن صاحب ہی کا امتیاز تھا کہ گھرانے کے فرد کو جہاد کی وادی میںاتارنے میں کامیاب ہوگئے۔جہادی نیٹ ورک قائم کرنے کے بعد گول گلاب گڑھ کے نزدیکی پہاڑ پر تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر اس کی نگرانی کے لیے قیام گاہ قائم کی ۔ اس چوٹی سے وادی اور صوبہ جموں ۔۔۔۔۔ دونوں علاقے دکھائی دیتے ہیں ۔ اتنی بلندی پر اپنا لہو بہا کر تحریک کی کھیتی کو سیراب کردیا۔احمد حسن شہیدؒ نے اپنے پیچھے ایک ایسا فکری اور عملی ورثہ چھوڑا جو آج بھی تحریکِ آزادی اور تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اخلاص، استقامت اور قربانی سے سرشار افراد جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا کردار اور پیغام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں اُس کے لیے
اللہ اللہ! موت کو کس نے مسیحا کر دیا
اللہ تعالیٰ احمد حسن شہیدؒ اور ان کے تمام رفقائے شہداء کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔







