شہزاد منیر احمد
انسان چونکہ دوسری مخلوقات سے کلی طور پر تہہ در تہہ مختلف تخلیق ہے ، اسے اندرونی اور بیرونی اوصاف کی بنیاد پر پہچاننا بہت مشکل ہے ۔ اس لیے انسان کی معاشرتی پہچان کا متفقہ ،آسان اور واحد آفاقی طریقہ یہ طے ہے کہ “آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔”

یورپی تہذیب وتحقیق کے مطابق کہا جاتا ہے،” A Man Is Known By The Company He Keeps.
پنجابی کلچر میں کہا جاتا ہے” چنگیاں کولوں میری چولی پھل پئے، مندیاں کول بہہ کے میرے اگلے وی ڈل گئے ” ۔۔اگر ہم مختلف اقسام کے علمی تربیتی پروگرام ، نصابی ، مذہبی ،سیاسی ، عسکری ، اور ہنر و فنون کے نتائج کا جائزہ لیں تو ہم یہ جانتے ہیں کہ لیڈر/استاد ( Teacher) اپنے شاگردوں کے دل و دماغ میں ان کے اپنے موجود نظریہ و تصورات کے اضافی و ضمنی عقائد کو پہلے کرید کر مٹاتا ہے ، اور ان کی جگہ مضبوط نظریات پر استوار اپنی مضبوط شخصیت نقش کرتا ہے۔ یعنی ماتحت لیڈر کا اور شاگرد استاد کا پرتو ہوتا ہے۔ ایسی کیفیت کو سالک سلوک و تصوف اس کامیابی پر گنگناتا ہے ،
” جب تک بکے نہ تھے، کوئی پوچھتا نہ تھا
تو نے خرید کر ہمیں انمول کر دیا۔
“تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تربیتی مراحل میں ، خصوصاً سیاسی نظریات اور سماجی عقائد کے قبول کرنے میں طالب علم ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے ۔عقیدت بے شک کتنی ہی معصوم اور کمزور کیوں نہ ہو، اسے ترک کرنا بسا اوقات سیکھنے والوں کے لیے بڑا مشکل ہوتا ھے۔ مثال کے طور پر ۔۔متحدہ ہندوستان میں صدیوں سے رہنے والے مسلمانوں کو وطن میں کوئی اہمیت نہیں ملتی تھی۔ حقیقت پسند ایک وکیل محمد علی جناح نے اپنے تن تنہا سے یہ فیصلہ کیا کہ وہ لوگوں کو زمینی حقائق سے آگاہ کرے گا۔ اور پھر اس نے وہ عملی سچائی ثابت کی کہ” اکیلا ہی چلا تھا میں جانب منزل لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیاـ”
ہندوستان میں برطانوی جابرانہ قبضہ و حکومت کے خلاف ، جد وجہد آزادی پر مسلمان ، ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگ متحد، متفق اور ہم آہنگ تو تھے ۔ مسلہ مگر یہ تھا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد حکومت کس قوم کو کرنے کا حق ہوگا ۔ کیونکہ ، ہندو تو مسلمانوں کو الگ سے قومی اکائی کا ہونا قبول ہی نہیں کرتے تھے۔ادھر حقیقت یہ تھی کہ انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی ۔
اس معتبر اور برتر دلیل کی بنیاد پر کسی بھی قوم کا اپنا تعلیمی نظام بڑ اہمیتِ کا حامل ہوتا ہے۔ جسے اسلامی تعلیمات و تاریخ کے معتبر ترین امین و نقیب ، علامہ اقبال صاحب نے عقائد کی تعلیم کو قوموں کی ترقی کا مرکز و محور قرار دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا:-
قوموں کے لئیے موت ہے مرکز سے جدائی
ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے خدائی
( یہاں خدائی کا مطلب GOVERNANCE لیا جائے)۔یہی وہ سیاسی عقیدہ تھا جس پر قائم محمد علی جناح اور ان کے رفقائے کار نے ہندوستان میں ہندوؤں کے برابر مسلمانوں کی اکائی تسلیم کروائی اور آزادی حاصل کی تھی ، بشمول ریاست جموں و کشمیر ۔اسلامی فلسفہ حیات کے اعتبار سے دنیا میں ایک ہی قوم ہے اور وہ ہے انسانیت ، جو جغرافیائی حدود ، رنگ و نسل کی شناخت سے بے نیاز ہے۔ اس اعتبار سے ، مسلمان دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی رہتا ہے وہ مسلمان قوم(ریاست مسلم امہ) کا باشندہ و رکن ہے۔
انسان کی تخلیق اور انسانیت کا قیام خالق کائنات کے ارادے کا مظہر ہے۔ ایک محکم حوالے سے بتایا جاتا ہے ” من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ” یعنی جس نے اپنی ذات و حثیت کی پہچان پائی ، اس نے اپنے اللّٰہ کو پایا.اس نظریہ کے تحت ( خالق و مخلوق کا تعلق کیا ہے ) منفرد اور تعمیری شناخت پانے والوں کو اہل تفکر ” قوم” کہتے ہیں۔اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانوں کا اپنی اجتماعی شناخت ،ایک مقصد، ایک ارادہ لے کر ، فلاح انسانیت کے تحفظ و بقاء ( لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون) پانے والوں کو ایک قوم لکھا پڑھا جاتا یے۔ بے شک وہ دنیا کے کسی کونے گوشے میں رہنے والا ہو۔
علم میں محفوظ نور ھدایت سے راقم یہ سمجھتا ہے کہ ریاست کا خمیر جبر اور کمزوروں کے استحصال سے اٹھایا گیا ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعہ سیاسی فلسفے کا جائزہ لینے سے یہ خاکسار اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ریاست کی تشکیل اور ارتقاء میں جبر، طاقت اور کمزوروں کے حقوق کی تلفی کا نمایاں کردار رہا ہے۔ابتدائی دور میں طاقتور قبائل نے کمزور لوگوں پر قبضہ کر کے اپنی عملداری شروع کی جس سے ریاست کا تصور ابھرا ۔معروف فلسفی کارل مارکس اپنے Theory of Might is right میں لکھتے ہیں کہ ریاست ہمیشہ سے ایک طبقے کے ہاتھوں دوسرے طبقے کے استحصال کا آلہ کار رہی ہے۔، جہان اشرافیہ نے ہمیشہ کمزور طبقوں کے حقوق دبا کر اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔
سیاسی تاریخ میں جدید سیاسی ریاست 1928 میں معاہدہ Westmenphaliaکے تابع قائم ہوئی۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ مخصوص جغرافیائی حدود کی بنیاد پر سیاسی ریاستوں کا وجود عمل میں آیا ۔ اس سے پہلے یا سلطنتیں ہوتی تھیں یا قبائلی ریاستیں ہوا کرتی تھیں۔ اور قدیم زمانوں میں قوم نوح، قوم لوط، اقوام عاد و ثمود وغیرہ بھی رہ چکی تھیں ۔تاریخ میں ریاست کی سرحدیں اور طاقت ہمیشہ خونریزی، جنگوں اور مفتوحہ علاقوں کے عوام کے حقوق سلب کر کے ہی قائم کی گئیں ۔
ایسی ہی صورتحال کا سامنا آج ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو ہے ۔ وہ صدیوں سے آزاد ریاست رہی ہے ۔مگر آج وہ ویسے ہی جبر و ستم اور حق تلفیوں کا شکار ہے جیسا کسی زمانے میں قدیم قبائلی ریاستوں کو سرداروں کے ہاتھوں ہوا کرتا تھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے ، اہل علم و ماہر سائنس نے خود سر ، باغی و سرکش گھوڑے کو لگام دے کر اپنی مرضی کے راستے اور رفتار پر چلنے پر سدھار کر یہ نظریہ قائم کیا کہ نافرمان، باغی اور بد قماش انسان کو قوانین و ضوابط کی لگام دے کر انہیں نیکی کرنے اور اجتماعی بہتری کی خاطر کام کرنے اور برائی کے راستے سے ہٹا کر اچھا بنا اور معاشرے کی سچائیوں پر قائم رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ علم۔سیاسیات کا کہنا ہے کہ ریاست چھوٹی ہو یا بڑی نہ وہ کمزور ہوتی ہی غریب۔ وہ اپنے وجود کو قائم اور دائم رکھنے کے وسائل رکھتی ںہے تو وہ وجود میں اتی ہے۔ البتہ حکمران اسے اپنے فیصلوں سے کمزور، ذلیل و رسوا کرتے ہیں۔ جیسے برطانوی بادشاہت کو اس کے بادشاہ چارلس اول نے صدیوں سے چلتی بادشاہت کو 12 سال تک اپنی سفاکیت کا شکار رکھا۔ آخر کار اپنے ہی جنرل اولیور کرامویل کے ہاتھوں جمہوریت بھی ختم کروائی اور خود بھی پھانسی کے پھندے پر جھولا ۔
اپنی اپنی ضرورت،خواہشات اغراض ومقاصد اور اپنی مرضی سے بازاروں اور سڑکوں پر پھیلے لوگ قوم نہیں ہوتے وہ انسانوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ جب کہ ایک ارادہ، ایک مقصد ایک ھدف ایک آواز لے کر باہر نکلنے والے عوام قوم ہوتے ہیں۔ کشمیری عوام کو اپنی حق خودارادیت کی جنگ میں پیش آنے والی طاقتوں، قوتوں، اداروں اور شخصیات کے کردار پر بہ نظر غائر جائزہ لینے کی شدید ضرورت ہے ۔ تاکہ وہ اپنی بساط اور دستیاب وسائل کی مطابق مناسب اور موثر اقدام کر سکے۔
فاعتبروا یا اولی الابصار ۔







