یہ تو دیوار پر لکھا ہوا تھا

سید عارف بہار

خموش رہنے کی عادت بھی ماردیتی ہے
تمہیں یہ زہر تو اندر سے چاٹ جائے گا

کشمیر ولیوں اور رشیوں کی سرزمین ہے ۔نالہ ہائے نیم شب اور شب زندہ داری آج بھی اس معاشرے پر ختم ہے۔کشمیر سٹریٹجک ڈیپتھ پالیسی کی زد میں آیا ۔بات محدود رہتی تو اچھا تھا مگر پوری آبادی جذباتی ہو کر اُٹھ کھڑی ہوئی ۔سردار عبدالقیوم خان بطور صدر آزاد کشمیر ابتدائی اجلاسوں کے گواہ اور رازداں تھے ۔اسی لئے میں ہر انٹرویو میں ان سے ابتدائی پالیسی اور کہاں تک جانا ہے ؟جیسےسوالات پوچھ کر ہربار کوئی نئی بات حاصل کرتا تھا ۔1995میں ایوان وزیر اعظم میں جب ان کے پریس سیکرٹری برادرم سردار طاہر تبسم بھی موجود تھے۔انہوں نےدو اجلاسوں کے احوال سنائے ایک جنرل ضیاء کی سربراہی میں دوسرا ان کی موت کے بعد صدر غلام اسحاق خان کی سربراہی میں۔اسی دوران سردار عبدالقیوم خان کہنے لگے اعظم انقلابی کو میں نے کہا تحریک کا پروفائل ہائی نہ ہونے دیں پوری آبادی کو اس میں نہ جھونکیں ۔میں نے کاونٹر کوسچئن کیا کہ سردار صاحب انسانی آبادی تو جذبات کی بنیاد پر اُٹھتی ہے اس کے پروفائل کے ہائی یا لو ہونے کا فیصلہ لیڈر کمانڈر یا کوئی سرکاری ادارہ کیسے کرسکتا ہے؟بہرحال آبادی اُٹھی اور سینتالیس پنسٹھ سمیت سارے گلے دور کر دئیے ۔آبادی کو خیال تھا ہم نے مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کرنا ہیں باقی کام محمد بن قاسم نے آکر خود کرنا ہے۔ہوا اس کے برعکس یہاں تک ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے نعرے کے خالق سید علی گیلانیؒ بھی گلہ گزار ہوئے کہ پاکستان نے ہند چین جنگ کے بعد نوے اکیانوے میں کشمیر حاصل کرنے کا موقع دوسری بار گنوادیا ۔ظاہر ہے کہ جس نظام کے ساتھ آپ جڑے ہیں اس نے آپ کوسٹیٹس کوتوڑنے کی اجازت نہیں دی ہر دوبار ۔مگر بدقسمتی کی بات کہ یہی خصوصی اجازت اندرا گاندھی نے بزور طاقت حاصل کی اکہتر میں ۔خصوصی اس لئے کہ سینتالیس سے اکہتر اور اس کے بعد آج تک اس ریجن میں جغرافیائی ٹوٹ پھوٹ کا واحد واقعہ پاکستان ٹوٹنا تھا ۔نہ بھارت ٹوٹا نہ نیپال، بھوٹان، سری لنکا ٹوٹا ۔حالانکہ غیر ایٹمی ریاست سری لنکا نے بھی تامل تحریک کے ہاتھوں خود کو ٹوٹنے سے بچالیا۔

پانچ اگست دوہزار انیس سب معرکوں اور مرحلوں کی ماں تھا اس میں خاموشی اور مصلحت نے یہ دن دکھانا تھے ۔خاموشی بھی ایسی ویسی؟۔ کل ایک اخبار نویس دوست بتارہے تھے کہ اسلام آباد کا فارن میڈیا ان سے رابطے کر رہا تھا کہ مظفرآباد میں جوطوفان برپا ہونے والاہے پانچ اگست کے خلاف ہمیں اس طوفان کی کوریج کے لئے کتنے کیمرے اور کتنی ٹیم چاہئے مگر یہاں خود طاری کردہ سکوت تھا بیس لوگ باہر تھے جن میں ایک کوآرڈینیٹرمقامی صحافی اور باقی 1990 کے مہاجر راہنما عذیر غزالی کے متعلقین اور دوست ۔وزیر اعظم آزاد کشمیر صاحب ملک سے باہر گئے ۔اہل حر اور اہل حریت سب خاموش اور لب بستہ ۔کبھی اپنی جی میل سنٹ آئٹمز سے اس دور کی اپنی تحریریں نکال کر حوالے دوں گا جس میں متنبہ کیا تھا کہ اس خاموشی کی قیمت آپ کو آزادکشمیر میں چکانی پڑے گی ۔
اس کے بعد لبریشن فرنٹ کا لانگ مارچ ہوا جسے جسکول میں روک دیا گیا ۔اس مارچ میں ایک نوجوان کی گفتگو کی پرانی وڈیو سن رہا تھا جو کہہ رہا تھا ہمیں مت روکیں آگے جانیں دیں ہمیں روکا تو نہ سیاست رہے گی نہ ریاست ۔لڑکے سے پوچھا گیا آپ کہاں سے آئے ہیں وہ کہتا ہے کہ میں مڈل ایسٹ سے آیا ہوں آپ پسند کریں یا نہ کریں میرے ناقص تجریے میں وہی لڑکا رواں تحریک کا پوسٹر بوائے ہے اور وہ اپنا مقدمہ ہی کشمیر کے حوالےسے طاری خودساختہ مجبور ی اور خاموشی سے شروع کرکےتحریک آزادی کے مفاد اور نقصان جیسے قدیم بیانیوں کی دھجیاں بکھیر رہا ہے ۔مولانا فضل الرحمان اور خواجہ آصف تو جلیل القدر ہستیاں ہیں مگر پہجہ ودہن کے اعتبار سے اسے آپ ماہ رنگ بلوچ ،منظور پشتین،رسول بخش پلیجو کہہ سکتے ہیں ۔آج سرزمین پونچھ میں ماضی کے معروف عسکری کردار بلکہ یکے ازبانیان سردارمسعود سرفزاز کو اس کے ساتھ بیٹھے دیکھا اور غازی شہزاد کی تازہ پوسٹ پڑی تو خاموشی رہنے کی قیمت کا ایک اور پہلو سامنے آیا ۔جسکول میں بولنے والے نوجوان کا نام سردار امان ہےجو کشمیر پالیسی پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں اور اس کے مفاد اور نقصان پہنچنے کی باتوں کو ٹرک کی بتی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اپنے بیانیے کے لئے ساری طاقت اور توانائی پانچ اگست کی خاموشی سے کشید کر رہے ہیں۔