افشاں نوید
کچھ لوگ رخصت ہوتے ہیں تو ایک شخص دنیا سے جاتا ہے، کچھ لوگ رخصت ہوتے ہیں تو ایک عہد ختم ہوجاتا ہے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے جانے کے بعد بھی ان کی آوازیں، ان کے قدموں کی چاپ، ان کے جملے، ان کے فیصلے اور ان کی محبتیں دیر تک لوگوں کے درمیان زندہ رہتی ہیں۔امیرالعظیم ایسے ہی تھے۔منصورہ لاہور میں ان کی نمازِ جنازہ ادا ہوئی تو شاید بہت سے لوگوں کے دل میں یہی احساس تھا کہ آج ہم صرف ایک رہنما کو نہیں، اپنے ایک ایسے ساتھی کو رخصت کرنے آئے ہیں جس نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ ایک مقدس مقصد کے نام کردیا تھا۔وہ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل تھے، لیکن ان کی اصل پہچان کوئی منصب نہیں تھا۔ وہ ایک کارکن تھے، ایک نظریاتی انسان تھے، ایک عاشقِ مشن تھے۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا تعارف یہ تھا کہ انہوں نے جو کچھ مانا، اسی کے مطابق جئے…جس مقصد کو حق سمجھا، اس کے لیے کھڑے رہے… اور جس راستے کو اختیار کیا، اس پر آخری سانس تک چلتے رہے۔ان کی زندگی کا سفر نوجوانی سے شروع ہوتا ہے۔

جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے زمانے میں وہ ایک پُرجوش نوجوان رہنما تھے۔ ان کے لہجے میں ایسی گرج تھی کہ مخالفین بھی چونک جاتے۔ ان کی آواز میں وہ اعتماد تھا جو کسی وقتی جوش سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ کسی پختہ یقین سے جنم لیتا ہے۔وہ نعرے لگاتے تھے:”سبز ہے، سبز ہے، ایشیا سبز ہے!“اور دوسری طرف سے آواز آتی:”سرخ ہے، سرخ ہے، رشیا سرخ ہے!“یہ صرف نعروں کی جنگ نہیں تھی۔ یہ دو مختلف نظریات کے درمیان کشمکش تھی۔ یہ اُس زمانے کی فکری اور نظریاتی جنگ تھی جس میں نوجوانوں کے سامنے یہ سوال تھا کہ وہ کس فکر کے ساتھ کھڑے ہوں گے، کس تہذیب کو اپنا مستقبل بنائیں گے، کس نظریے کو دل میں جگہ دیں گے۔
امیر العظیم نے یہ انتخاب بہت پہلے کرلیا تھا۔ انہوں نے زندگی بھر اس انتخاب کو نہیں بدلا۔ وہ نوجوانی کے ان نعروں کو عمر کے ساتھ بھول جانے والوں میں سے نہیں تھے۔ انہوں نے اپنی جوانی کے جوش کو پختہ عمر کی بصیرت میں ڈھالا اور پھر اس بصیرت کو زندگی بھر کی جدوجہد بنادیا۔وہ سبز اور سرخ کی کشمکش کو صرف ایک سیاسی یا وقتی معرکہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ حق اور باطل، ایمان اور الحاد، اسلامی تہذیب اور مغربی غلبے کے درمیان ایک مسلسل معرکہ تھا… اور وہ اس معرکے کے تماشائی نہیں تھے۔ وہ تماشائی بن کر زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ اگر حق کو حق سمجھ لیا ہے تو پھر اس کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر کسی مقصد کو درست مانا ہے تو پھر اس کی قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔ اگر کسی راستے کو منزل سمجھا ہے تو پھر اس راستے کی دشواریوں سے گھبرانا نہیں ہوگا۔ایک آگ کا دریا ہے اور تیر کے جانا ہے۔انہوں نے اس آگ کے دریا میں صرف خود تیر کر نہیں دکھایا، دوسروں کو بھی تیرنا سکھایا۔ان کی زندگی ایک مسلسل حرکت تھی۔ ایک لمحے کے لیے چین سے بیٹھنا ان کے مزاج میں نہیں تھا۔تنظیمی کام، سیاسی جدوجہد، کارکنوں سے رابطے، اجتماعات، سفر، تحریکی ذمہ داریاں، فکری گفتگو، تحریر، تقریر… وہ ہر میدان میں متحرک تھے۔بیماری نے جسم کو کمزور کیا، لیکن ارادے کو نہیں۔کینسر جیسی موذی بیماری نے پندرہ برس سے زیادہ ان کے جسم کو گھیرے رکھا، مگر ان کے عزم کو شکست نہ دے سکی۔ وہ علاج بھی کراتے رہے، ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے، سفر بھی کرتے رہے اور اپنے مشن سے جڑے کام بھی کرتے رہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب جماعت اسلامی کے نئے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے منصورہ میں مرکزی شوریٰ کے اجلاس کے دوران اپنی ٹیم کا اعلان کیا اور امیرالعظیم صاحب کے پاس مائیک آیا تو… جماعت اسلامی میں تنظیمی ذمہ داری سے رسمی طور پر معذرت معمول کی روایت نہیں۔ لیکن امیرالعظیم نے معذرت کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی میں کبھی کسی تنظیمی ذمہ داری سے معذرت نہیں کی، لیکن میری صحت آپ کے سامنے ہے۔ مجھے کچھ ضروری کام نمٹانے ہیں، جن کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔پھر انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ضروری کام کسی جائیدادیا کاروبار سے متعلق نہیں۔کچھ یادیں ہیں جنہیں لکھنا ہے۔ کچھ ادھورے لکھے ہوئے کام ہیں جنہیں مکمل کرنا ہے۔ اس کے لیے انہیں کچھ وقت چاہیے۔ ایک ایسی زندگی چاہیے جو تنظیمی ذمہ داریوں کے بوجھ سے کچھ آزاد ہو، تاکہ وہ اپنے ان ادھورے کاموں کو تکمیل تک پہنچا سکیں۔یہ کیسی معذرت تھی۔ایک شخص جو پوری زندگی تحریک کے لیے کھڑا رہا، وہ اپنے لیے کچھ فرصت مانگ رہا تھا، مگر اپنی جائیداد سنبھالنے کے لیے نہیں۔ اپنے کاروبار کے لیے نہیں۔ اپنی ذات کے لیے نہیں۔وہ اپنی یادیں لکھنا چاہتا تھا۔ وہ اپنی زندگی کے کچھ بکھرے ہوئے اوراق مکمل کرنا چاہتا تھا۔ وہ آنے والی نسلوں سے کچھ محفوظ کرنا چاہتا تھا۔امیر جماعت نے ان کی بات سن کر فرمایا:”ہم نے آپ کی بات سن لی ہے۔ اللہ آپ کے وقت اور عمر میں برکت دے گا، لیکن اس وقت آپ ہی اس ذمہ داری کے لیے اہل تر ہیں۔ فی الحال آپ کی معذرت قبول نہیں کی جاسکتی۔“یہ جملہ مکمل ہوا تو امیرالعظیم نے حلف پڑھنا شروع کردیا۔وہ حلف جو انہوں نے زندگی میں کتنی ہی بار اٹھایا تھا۔لیکن حلف اٹھانا ایک بات ہے اور حلف کو نبھانا دوسری بات۔ذمہ داری قبول کرنا ایک بات ہے اور اس ذمہ داری کے لیے اپنی ذات کو کھپا دینا دوسری بات۔کسی مشن سے وابستہ ہونا ایک بات ہے اور اس مشن کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی ترجیح بنادینا دوسری بات۔
امیرالعظیم صرف وابستہ نہیں تھے۔ وہ فدا تھے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ جماعت اسلامی کو کتنی نشستیں ملیں، کتنی حکومتیں بنیں، کتنے انتخابات جیتے یا ہارے۔ وہ اس سے بہت بلند تھے۔ان کے لیے اصل سوال یہ تھا کہ ہم نے اپنا فرض ادا کیا یا نہیں؟ہم چلتے رہے یا رک گئے؟ہم نے حق کی گواہی دی یا خاموش رہے؟ہم نے آنے والی نسلوں کے لیے کچھ چھوڑا یا نہیں؟ان کے نزدیک سفر کی کامیابی کا پیمانہ منزل کا مل جانا نہیں تھا۔یہاں عین منزل ہے سفر کا دشوار ہوجانا۔یہاں چلتے رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔منزل کب ملے گی، کس کو ملے گی، کتنے عرصے بعد ملے گی… یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔انسان کا کام چلتے رہنا ہے۔امیرالعظیم چلتے رہے۔ اور صرف خود نہیں چلے… لوگوں کو ساتھ لے کر چلے۔ نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑا۔ کارکنوں کو حوصلہ دیا۔مایوس لوگوں کو امید دی۔تنظیم کے اندر آنے والوں کو یہ احساس دیا کہ وہ کسی اجنبی جگہ نہیں، اپنے گھر میں آئے ہیں۔منصورہ ان کے لیے صرف جماعت اسلامی کا مرکزی دفتر نہیں تھا۔وہ منصورہ کی بستی میں دل بن کر دھڑکتے تھے۔ایک ساتھی نے کہا: ”یہ تصور کرنا ہی دشوار تر ہے کہ ہم منصورہ جائیں اور وہ منصورہ امیرالعظیم کے بغیر ہو۔‘‘واقعی! کچھ لوگ کسی جگہ کا حصہ نہیں ہوتے، وہ خود اس جگہ کی شناخت بن جاتے ہیں۔منصورہ میں امیرالعظیم صرف ایک عہدیدار نہیں تھے۔ وہ اس بستی کی رونق تھے۔ کارکنوں کی آوازوں میں ان کی آواز شامل تھی۔ راہ داریوں میں ان کے قدموں کی چاپ تھی۔ اجتماعات میں ان کی گرج تھی۔ گفتگو میں ان کی بے تکلفی تھی۔ اور نہ جانے کتنے لوگوں کے لیے ان کا گھر ایک پناہ گاہ تھا۔
کل ہی ایک بھائی کا تبصرہ پڑھنے کو ملا۔وہ اپنے بچے کے علاج کے لیے لاہور آئے تھے۔ علاج طویل تھا۔ شاید دو سال بھی لگ سکتے تھے۔ امیرالعظیم نے اپنے گھر کا نچلا پورا حصہ ان کے لیے پیش کردیا۔اس بھائی نے شاید کہا کہ علاج میں دو سال لگ سکتے ہیں۔امیرالعظیم نے بے نیازی سے جواب دیا:”تو رہیے دو سال، کون منع کررہا ہے؟ یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔یہ صرف ایک گھر کا نچلا پورشن کسی کو دے دینا نہیں تھا۔یہ اس دل کا پتا تھا جس میں اپنے لوگوں کے لیے جگہ تھی۔بہت جگہ تھی۔ایسی جگہ جو کرائے کے معاہدوں سے نہیں، محبت کے رشتوں سے بنتی ہے۔یہی تو مشن سے محبت ہے۔دراصل مشن سے محبت صرف نظریے سے محبت نہیں ہوتی۔ اس مشن سے وابستہ انسانوں سے بھی محبت کرتا ہے۔وہ ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے۔ ان کی پریشانی میں کھڑا ہوتا ہے۔ ان کے بچوں کو اپنا بچہ سمجھتا ہے۔ ان کے گھر کو اپنا گھر سمجھتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ امیرالعظیم کے جانے کے بعد بہت سی ذاتی یادیں سامنے آرہی ہیں۔ہر شخص کے پاس ان کے بارے میں ایک الگ کہانی ہے۔کسی کو یاد ہے کہ انہوں نے مشکل وقت میں ہاتھ تھاما تھا۔ کسی کی مالی مدد کی تھی۔کسی نوجوان کی صلاحیت پہچانی تھی۔ کسی مایوس کارکن کو دوبارہ کھڑا کیا تھا۔ کسی کی بات گھنٹوں بیٹھ کر سنی تھی۔ یہی کسی انسان کی اصل میراث ہوتی ہے۔
جائدادیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ عہدے ختم ہو جاتے ہیں۔ دفتر بدل جاتے ہیں۔لیکن لوگوں کے دلوں میں محفوظ محبتیں باقی رہتی ہیں۔امیرالعظیم نے اپنے خاندان کو بھی اسی مشن کے لیے تیار کیا۔انہوں نے صرف خود مشنری زندگی نہیں گزاری، اپنے گھر کو بھی ایک نظریے سے جوڑے رکھا۔ ان کے لیے گھر اور مشن دو الگ دنیائیں نہیں تھیں۔ ان کی ذات میں دونوں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ان کے اہلِ خانہ نے ان کی مصروفیات دیکھیں، ان کے سفر دیکھے، ان کی بیماری دیکھی، ان کی تھکن دیکھی، لیکن یہ بھی دیکھا کہ ایک انسان اپنے مقصد کے ساتھ کس طرح وفادار رہتاہے۔انہوں نے اپنے گھر والوں کو صرف یہ نہیں بتایا کہ مشن کیا ہے۔ انہوں نے انہیں دکھایا کہ مشن کے ساتھ جینا کیا ہوتا ہے۔اپنا گھر، اپنا مال، اپنا وقت، اپنی صلاحیتیں… انہوں نے سب کچھ اس مقدس مقصد پر نچھاور کردیا۔یہ فدائیت آسان نہیں ہوتی۔نوجوانی میں انقلاب کے نعرے لگانا آسان ہوتا ہے۔ جوانی کے جوش میں جلسے جلوسوں میں کھڑے ہونا آسان ہوتا ہے۔ مگر پھر عمر کے ساتھ ساتھ جب زندگی کی سہولتیں اپنی طرف بلائیں، جب ذاتی مصروفیات بڑھ جائیں، جب صحت کمزور ہونے لگے، جب جسم ساتھ نہ دے، تب بھی اسی راستے پر کھڑے رہنا…یہ اصل امتحان ہے۔امیرالعظیم نے یہ امتحان دیا۔اور اپنی پوری زندگی سے اس کا جواب لکھا۔انہوں نے اپنی جوانی کا جوش بھی دیا۔اپنی جوانی کے بعد کی پختگی بھی دی۔اپنی صحت بھی دی۔اپنی توانائی بھی دی۔اپنا مال بھی دیا۔اپنا گھر بھی دیا۔اور آخر میں اپنی بیماری کے باوجود وقت بھی دیا۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی موت کا غم صرف اس لیے نہیں کہ ایک بڑا رہنما چلا گیا۔غم اس لیے بھی ہے کہ ایک ایسا شخص چلا گیا جو اپنے وجود سے لوگوں کو یقین دلاتا تھا کہ ابھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو مقصد کے لیے جیتے ہیں۔ جو اپنی ذات سے بلند ہوسکتے ہیں۔ جو اپنے آرام کو قربان کرسکتے ہیں۔ جو اپنے حصے کا چراغ دوسروں کے لیے جلا سکتے ہیں۔امیرالعظیم کی آواز میں گرج مگر ان کے دل میں نرمی تھی۔ وہ مخالف کے سامنے ایک مضبوط نظریاتی سپاہی تھے، مگر اپنے کارکن کے سامنے ایک شفیق ساتھی۔وہ میدان میں للکار سکتے تھے، لیکن گھر کی دہلیز پر آنے والے پریشان انسان کے لیے اپنے دروازے کھول سکتے تھے۔وہ نظریے پر سمجھوتا نہیں کرتے تھے، لیکن انسانوں کے دکھ کو سمجھتے تھے۔یہ امتزاج ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے ان کی آواز کو صرف جلسوں کے نعروں میں نہیں، اپنے دل کی دھڑکنوں میں محسوس کرتے ہیں۔منصورہ کی بستی شاید اب بھی وہی ہے۔وہی راستے ہیں۔ وہی عمارتیں ہیں۔ وہی دفتر ہیں۔ وہی کارکن ہیں۔ وہی اجتماعات ہوں گے۔ وہی اجلاس ہوں گے۔ وہی قافلے آئیں گے اور جائیں گے… لیکن ایک آواز کم ہوگئی ہے۔ ان کے قدموں کی چاپ خاموش ہوگئی ہے۔ ایک ایسا شخص جو منصورہ میں دل بن کر دھڑکتا تھا، اب نظروں سے اوجھل ہے۔ مگر دل کی دھڑکنیں آنکھوں سے نہیں دیکھی جاتیں۔ وہ محسوس کی جاتی ہیں۔ اور امیرالعظیم کے چاہنے والے شاید آج بھی ان دھڑکنوں کو سن سکتے ہیں۔ان کے لیے یہ منصورہ کبھی امیرالعظیم کے بغیر نہیں ہوگا۔ کیونکہ کچھ لوگ جگہوں سے چلے جاتے ہیں، لیکن جگہیں ان سے خالی نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے پیچھے اپنی روح چھوڑ جاتے ہیں۔ امیرالعظیم نے بھی منصورہ میں اپنی روح کا ایک حصہ چھوڑا ہے۔ان کی تقریریں شاید دوبارہ سنائی جائیں گی۔ ان کے جملے دہرائے جائیں گے۔ ان کے واقعات سنائے جائیں گے۔ نوجوانوں کو بتایا جائے گا کہ ایک شخص تھا جس نے جوانی میں نعرے لگائے تھے، مگر عمر بھر ان نعروں کی قیمت ادا کی۔ایک شخص تھا جس نے کہا تھا کہ زندگی حق کے ساتھ گزارنی ہے، تماشائی بن کر نہیں۔ پھر اس نے اپنی زندگی سے ثابت کردیا کہ وہ تماشائی نہیں تھا۔ وہ میدان کا آدمی تھا۔ وہ صفِ اول کا سپاہی تھا۔ وہ قافلے کا مسافر تھا۔ وہ مشن کا عاشق تھا۔ اور وہ آخری وقت تک چلتا رہا۔شاید اس کی زندگی کا سب سے خوب صورت پہلو یہی ہے کہ اس نے نوجوانی کے جذبات کو بڑھاپے کی تھکن کے حوالے نہیں کیا۔ اس نے اپنے خوابوں کو حقیقت کی سختیوں سے ٹوٹنے نہیں دیا۔ اس نے اپنی فکر کو حالات کے بدلنے سے نہیں بدلا۔ اس نے اپنی وفاداری کو کامیابی اور ناکامی کے پیمانے سے نہیں ناپا۔اس نے صرف یہ دیکھا کہ راستہ درست ہے یا نہیں۔ اور جب اسے یقین ہوگیا کہ راستہ درست ہے تو پھر وہ چل پڑا۔وہ چلتا رہا۔ پھر دوسروں کو ساتھ ملاتا رہا۔ پھر ایک دن خود رخصت ہو گیا۔ لیکن جاتے جاتے ایک سوال چھوڑ گیا:ہم نے اپنے حصے کا سفر کتنا طے کیا؟ہم نے اپنے مشن کے لیے کیا قربانی دی؟ہم نے اپنے مقصد کو اپنی زندگی میں کتنی جگہ دی؟ہم نے اپنے بچوں کو کیا سکھایا؟ہم نے اپنے بعد آنے والوں کے لیے کیا چھوڑا؟اور اگر کبھی زندگی ہمیں کسی موڑ پر روک کر پوچھے کہ تم تماشائی تھے یا قافلے کے ساتھ چلنے والے؟ تو ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟امیرالعظیم کے پاس جواب تھا۔ان کی پوری زندگی جواب تھی۔انہوں نے کہا نہیں، کر کے دکھایا۔انہوں نے مشن کو صرف زبان سے نہیں اپنایا، زندگی سے اپنایا۔انہوں نے حلف صرف پڑھا نہیں، نبھایا۔انہوں نے محبت صرف بیان نہیں کی، بانٹی۔انہوں نے کارکن صرف گنے نہیں، سنبھالے۔انہوں نے نظریہ صرف سمجھا نہیں، جیا۔اور انہوں نے اپنی زندگی کے آخری باب تک یہ ثابت کیا کہ ایک انسان اگر اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ہو تو اس کی عمر ختم ہوسکتی ہے، اس کا سفر ختم ہوسکتا ہے، لیکن اس کی جدوجہد ختم نہیں ہوتی۔ وہ دوسروں کے ہاتھوں میں منتقل ہوجاتی ہے۔ وہ نئی نسلوں کے قدموں میں چلنے لگتی ہے۔ وہ نئے دلوں میں دھڑکنے لگتی ہے۔آج امیرالعظیم ہم میں نہیں ہیں، لیکن ان کے بعد بھی راستہ باقی ہے۔ مشن باقی ہے۔ قافلہ باقی ہے، اور وہ لوگ بھی باقی ہیں جنہیں انہوں نے اپنے ساتھ چلنا سکھایا۔

یہی ان کی اصل کامیابی ہے۔انسان فانی ہے۔ عہدے فانی ہیں۔ شہرت فانی ہے۔ جسم فانی ہے۔ لیکن حق کے لیے اخلاص سے اٹھایا ہوا قدم، اللہ کی رضا کے لیے دی ہوئی قربانی، انسانوں کے دل میں پیدا کی ہوئی محبت، اور کسی صالح مقصد کے لیے وقف کی ہوئی زندگی…یہ سب اپنی گواہی چھوڑ جاتے ہیں۔امیرالعظیم بھی اپنی گواہی چھوڑ گئے ہیں۔وہ گواہی جو اُن کے ساتھی دیں گے۔ وہ گواہی جو اُن کے کارکن دیں گے۔ وہ گواہی جو اُن کے اہلِ خانہ دیں گے۔ وہ گواہی جو اُن کے گھر کے دروازے سے فائدہ اٹھانے والے وہ لوگ دیں گے جنہیں انہوں نے اپنے گھر کا حصہ دے دیا تھا۔ وہ گواہی جو منصورہ کی دیواریں دیں گی۔ اور شاید سب سے بڑھ کر وہ گواہی جو اُن کا رب دے گا، جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کا سودا کیا۔ہم نہیں جانتے کہ اللہ کے ہاں اُن کے لیے کیا مقام لکھا گیا ہے، لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ ایک ایسی زندگی جو حق کے لیے گزری، جس میں ذاتی آرام سے زیادہ مقصد عزیز رہا، جس میں اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کی فکر رہی، جس میں بیماری بھی عزم کو شکست نہ دے سکی، ایسی زندگی خالی نہیں جاتی۔ ایسے لوگ مر کر بھی اپنے مشن میں زندہ رہتے ہیں۔اور شاید یہی وہ امر ہونا ہے جس کی طرف امیرالعظیم اپنی پوری زندگی بڑھتے رہے۔امر فرد نہیں ہوتا، امر اس کا مشن ہوتا ہے۔فرد چلا جاتا ہے، مشن چلتا رہتا ہے۔ آواز خاموش ہوجاتی ہے، پیغام باقی رہتا ہے۔ قدم رک جاتے ہیں، قافلہ آگے بڑھتا ہے۔اور منصورہ کی بستی میں، جہاں کبھی ایک شخص دل بن کر دھڑکتا تھا، شاید اب وہ دھڑکن بہت سے دلوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔وہ نوجوان جو آج نعرہ لگائے گا، اسے شاید معلوم نہ ہو کہ یہ نعرہ کبھی ایک نوجوان امیرالعظیم کی آواز میں بھی گونجا تھا۔وہ کارکن جو آج کسی مشکل میں بھی کھڑا رہے گا، شاید اسے معلوم نہ ہو کہ کبھی ایک شخص نے اسی طرح نصف صدی تک چل کر دکھایا تھا۔وہ خاندان جو اپنے گھر کا دروازہ کسی ضرورت مند کے لیے کھولے گا، شاید اسے معلوم نہ ہو کہ اس روایت کی ایک روشن مثال امیرالعظیم نے بھی اپنے پیچھے چھوڑی ہے۔اور وہ شخص جو کبھی سوچے گا کہ ایک آگ کا دریا ہے، اس میں تیر کر جانا ہے، تو شاید اسے دور کہیں ایک آواز سنائی دے:تماشائی بن کر نہیں، حق کے ساتھ چلنا ہے… اور چلتے رہنا ہے۔یہی امیر العظیم کی زندگی کا سبق ہے۔یہی ان کی میراث ہے۔یہی ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہے کہ ہم ان کی یاد میں صرف آنسو نہ بہائیں، بلکہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔کہ ہم اپنے حصے کا سفر طے کریں۔اپنا عہد نبھائیں۔اپنی ذمہ داری پوری کریں۔اپنے مشن سے وفا کریں۔اور جب زندگی کا سفر اختتام کو پہنچے تو ہمارے پیچھے بھی کوئی یہ کہنے والا ہو:وہ شخص تماشائی بن کر نہیں جیا تھا۔وہ حق کا علم تھام کر چلا تھا۔وہ آگ کے دریا میں اترا تھا۔اور تیر کر پار ہوگیا۔اللہ تعالیٰ امیرالعظیم مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی تمام دینی، تحریکی، تنظیمی اور انسانی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ اور تمام رفقا کو صبرِ جمیل دے اور ان کے چھوڑے ہوئے قافلے کو اخلاص، استقامت اور باہمی محبت کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ٍ آمین یارب العالمین۔







