کوئی قوم اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک نہیں ہوسکتی

ا۔ل۔ر۔یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی۔ بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے)انکار کردیا ہے،پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سرِ تسلیم خم کردیا ہوتا۔ چھوڑو انہیں۔ کھائیں پییں، مزے کریں اور بھُلاوےمیں ڈالے رکھے اُن کو جھوٹی امید ۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ہم نے اس سےپہلے جس بستی کوبھی ہلاک کیا ہے ، اس کےلیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی۔کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے ،نہ اس کے بعد چھُوٹ سکتی ہے۔
یہ لوگ کہتے ہیں:’’اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے ،تو یقیناََ دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے توہمارے سامنے فرشتوں کولے کیوں نہیں آتا؟‘‘۔ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے ۔وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی ۔رہا یہ ذکر ،تو اس کو ہم نے نازل کیاہے اورہم خود اس کے نگہبان ہیں۔
اے محمدؐ ! ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ مجرمین کے دلوں میں توہم اس ذکر کو اسی طرح (سلاخ کے مانند) گزارتے ہیں۔وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے ۔قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرپا ہے۔
(سورہ الحجر1تا 13تفہیم القرآن سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

پڑوسیوں کے حقوق

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پڑوسی تین قسم کے اور تین درجے کے ہوتے ہیں ایک وہ پڑوسی جس کا صرف ایک ہی حق ہو اور وہ (حق کے لحاظ سے) سب سے کم درجہ کا پڑوسی ہے، اور دوسرا وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوں اور تیسرا وہ جس کے تین حق ہوں۔ تو ایک حق والاوہ مشرک (غیر مسلم) پڑوسی ہے جس سے کوئی رشتہ داری بھی نہ ہو (تو اس کا صرف پڑوسی ہونے کا حق ہے) اور دو حق والاوہ پڑوسی ہے، جو پڑوسی ہونے کے ساتھ مسلم (یعنی دینی بھائی) بھی ہو، اس کا ایک حق مسلمان ہونے کی وجہ سے ہو گا اور دوسرا پڑوسی ہونے کی وجہ سے اور تین حق والاپڑوسی وہ ہے، جو پڑوسی بھی ہو، مسلم بھی ہو اور رشتہ دار بھی ہو۔ تو اس کا ایک حق مسلمان ہونے کا ہو گا دوسرا حق پڑوسی ہونے کا اور تیسرا رشتہ داری کا ہو گا۔ (مسند بزار، حلیہ ابی نعیم)
تشریح :ا س حدیث میں صراحت اور وضاحت فرما دی گئی ہے کہ پڑوسیوں کے جو حقوق قرآن و حدیث میں بیان فرمائے گئے اور ان کے اکرام اور رعایت و حسنِ سلوک کی جو تاکید فرمائی گئی ہے ان میں غیر مسلم پڑوسی بھی شامل ہیں اور ان کے بھی وہ سب حقوق ہیں۔